صحیح مسلم حدیث ۲۲۸ - غلام کا مالکوں سے بھاگ جانا
حق ادا نہ کرنے کی سختی: غلام کے بھاگنے کی روایت
صحیح مسلم : ۲۲۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۸
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَرِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ ، يَقُولُ : " أَيُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ مِنْ مَوَالِيهِ ، فَقَدْ كَفَرَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِمْ " ، قَالَ مَنْصُورٌ : قَدْ وَاللَّهِ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يُرْوَى عَنِّي هَاهُنَا بِالْبَصْرَةِ .
جریر روایت:
جو غلام اپنے مالکوں سے بھاگ جائے وہ کافر ہو گیا (یہاں کفر سے مراد ناشکری ہے کیونکہ اس نے مالک کا حق ادا نہ کیا) جب تک لوٹ کر ان کے پاس نہ آئے۔ “ منصور نے کہا: قسم اللہ کی یہ حدیث تو مرفوعاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے (مگر میں نے یہاں مرفوعاً بیان نہیں کی جریر رضی اللہ عنہ کا قول بتایا) لیکن مجھے برا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث مجھ سے بیان کی جائے اس جگہ بصرہ میں۔
صحیح مسلم حدیث ۲۲۸ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کا قول بیان ہوا ہے کہ جو غلام اپنے مالکوں سے بھاگ جائے وہ کافر ہو گیا، جب تک واپس نہ آئے۔ ترجمہ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہاں کفر سے مراد ناشکری ہے، کیونکہ اس نے مالک کا حق ادا نہ کیا۔ اس لیے اس حدیث کو اسی تاریخی اور متنی دائرے میں سمجھنا چاہیے۔ اصل سبق حق تلفی اور ذمہ داری سے بھاگنے کی سختی ہے۔ متن میں منصور کا یہ کہنا بھی آیا ہے کہ یہ حدیث مرفوعاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، مگر انہوں نے وہاں اسے جریر رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر بیان کیا۔ اس سے روایت بیان کرنے میں احتیاط کا پہلو بھی سامنے آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- متن کے مطابق ذمہ داری سے بھاگنا سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔
- ترجمہ کے مطابق یہاں کفر کا مطلب ناشکری سمجھایا گیا ہے۔
- حق ادا نہ کرنا سنگین معاملہ بن سکتا ہے۔
- روایت بیان کرتے وقت نسبت میں احتیاط کی گئی ہے۔
