صحیح مسلم حدیث ۲۲۷ - نسب پر طعنہ اور میت پر نوحہ
نسب میں طعنہ اور میت پر نوحہ: دو سخت منع باتیں
صحیح مسلم : ۲۲۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۷
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ كُلُّهُمْ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اثْنَتَانِ فِي النَّاسِ هُمَا بِهِمْ كُفْرٌ ، الطَّعْنُ فِي النَّسَبِ ، وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں دو باتیں موجود ہیں اور وہ کفر ہیں۔ ایک نسب میں طعنہ کرنا، دوسرا میت پر چلا کر رونا۔“ (اس کے اوصاف بیان کر کے، جس کو نوحہ کہتے ہیں)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۲۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو باتوں کو بہت سخت الفاظ میں بیان فرمایا: نسب میں طعنہ کرنا اور میت پر چلا کر رونا۔ نسب میں طعنہ کا مطلب یہ ہے کہ کسی کے خاندان یا اصل پر عیب لگایا جائے۔ میت پر چلا کر رونے کو ترجمہ میں نوحہ کہا گیا ہے، یعنی مرنے والے کے اوصاف بیان کر کے بلند آواز سے رونا۔ حدیث میں ان دونوں کو کفر کی باتیں کہا گیا ہے، اس لیے انہیں ہلکا نہیں لینا چاہیے۔ نسب میں طعنہ حدیث ہمیں زبان کی حفاظت سکھاتی ہے، اور میت پر نوحہ حدیث ہمیں غم کے وقت ضبط کا سبق دیتی ہے۔ غم فطری ہے، مگر نوحہ اور عیب جوئی سے بچنا ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی کے نسب یا خاندان پر طعنہ کرنا سخت منع ہے۔
- میت پر چلا کر رونا حدیث میں ناپسندیدہ اور سنگین عمل بتایا گیا ہے۔
- غم کے وقت بھی زبان اور انداز کو قابو میں رکھنا چاہیے۔
- لوگوں کی خاندانی عزت پر حملہ نہیں کرنا چاہیے۔
