صحیح مسلم حدیث ۲۲۶ - قتل و قتال سے بچنے کی تنبیہ
باہمی خون ریزی سے بچنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۲۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۶
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ ، عَنْ وَاقِدٍ .
گزشتہ حدیث اس سند سے بھی مذکور ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۲۶ کا خلاصہ
یہ حدیث گزشتہ مضمون کو ایک اور سند سے بیان کرتی ہے۔ اس کا اصل سبق یہی ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کی گردنیں مارنے والے نہ بنیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنبیہ میں سختی ہے، کیونکہ باہمی خون ریزی ایمان، اخوت اور امن کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اس روایت کو پڑھ کر سمجھ آتا ہے کہ مسلمان سے لڑنا اور اسے نقصان پہنچانا صرف اجتماعی مسئلہ نہیں، دینی لحاظ سے بھی بہت خطرناک ہے۔ باہمی قتل و قتال کی حدیث ہمیں غصے، گروہی ضد اور انتقام سے بچنے کی طرف بلاتی ہے۔ متن میں کوئی لمبی تفصیل نہیں، مگر سابقہ حدیث کے ساتھ مل کر اس کا پیغام صاف ہے: مسلمان دوسرے مسلمان کی جان کے لیے خطرہ نہ بنے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دوسری سند سے اسی بات کا آنا مضمون کی تاکید ہے۔
- مسلمان کی جان کو نقصان پہنچانے سے بچنا چاہیے۔
- غصہ اور انتقام خون ریزی تک نہ پہنچے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل سے سختی سے روکا۔
