صحیح مسلم حدیث ۲۳۴ - یہ اللہ کی رحمت ہے
بارش پر شکر: یہ اللہ کی رحمت ہے
صحیح مسلم : ۲۳۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۴
وحَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مُطِرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَصْبَحَ مِنَ النَّاسِ شَاكِرٌ ، وَمِنْهُمْ كَافِرٌ " ، قَالُوا : هَذِهِ رَحْمَةُ اللَّهِ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَقَدْ صَدَقَ نَوْءُ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فَلا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ حَتَّى بَلَغَ وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ سورة الواقعة آية 75 - 82 .
ابن عباس روایت:
پانی برسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” صبح کی لوگوں نے بعض نے شکر پر اور بعض نے کفر پر تو جنہوں نے شکر پر صبح کی۔ انہوں نے کہا: یہ اللہ کی رحمت ہے۔ اور جنہوں نے کفر کیا انہوں نے کہا کہ فلاں نوء فلاں نوء سچ ہوئے۔“ پھر یہ آیت اتری «فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ» اخیر «وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ» تک
صحیح مسلم حدیث ۲۳۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بارش ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں میں سے بعض نے شکر پر صبح کی اور بعض نے کفر پر۔ شکر کرنے والوں نے کہا: یہ اللہ کی رحمت ہے۔ اور انکار کرنے والوں نے کہا کہ فلاں نوء سچ ہوا۔ پھر آیات «فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ» سے «وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ» تک نازل ہونے کا ذکر آیا۔ یہ اللہ کی رحمت حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ بارش اور رزق پر شکر کے الفاظ استعمال کیے جائیں، اور نعمت کو ستاروں یا نوء کی طرف نہ موڑا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بارش کے بعد «یہ اللہ کی رحمت ہے» کہنا شکر والا انداز ہے۔
- نعمت کو نوء یا ستارے کی طرف منسوب کرنا متن میں کفر کے طور پر آیا ہے۔
- قرآن کی آیات کا ذکر اس مضمون کی اہمیت بتاتا ہے۔
- رزق اور بارش پر شکر کرنا چاہیے۔
