صحیح مسلم حدیث ۲۳۵ - انصار سے محبت ایمان کی نشانی

انصار سے محبت ایمان کی نشانی ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۵

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آيَةُ الْمُنَافِقِ بُغْضُ الأَنْصَارِ ، وَآيَةُ الْمُؤْمِنِ حُبُّ الأَنْصَارِ " .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کی نشانی یہ ہے کہ انصار سے دشمنی رکھے اور مومن کی نشانی یہ ہے کہ انصار سے محبت رکھے۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۳۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ منافق کی نشانی یہ ہے کہ انصار سے دشمنی رکھے، اور مومن کی نشانی یہ ہے کہ انصار سے محبت رکھے۔ یہ بات بہت صاف اور مختصر ہے۔ انصار سے محبت حدیث کا مطلب یہی ہے کہ انصار کے بارے میں دل میں محبت ایمان والی علامت ہے، جبکہ ان سے بغض نفاق کی علامت ہے۔ اس متن میں انصار کی محبت کو ایمان کی نشانی کے طور پر بیان کیا گیا ہے، اس لیے مسلمان کو ان کے بارے میں برا جذبہ نہیں رکھنا چاہیے۔ حدیث ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ایمان صرف زبان کا دعویٰ نہیں، بلکہ دل کی محبت اور نفرت کے رخ سے بھی پہچانا جاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • انصار سے محبت مومن کی نشانی ہے۔
  • انصار سے دشمنی نفاق کی نشانی بتائی گئی ہے۔
  • دل کے جذبات بھی دینی اعتبار سے اہم ہیں۔
  • اہل ایمان کو انصار کے بارے میں محبت والا رویہ رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں