صحیح مسلم حدیث ۲۳۶ - حب انصار ایمان کی نشانی ہے

حب انصار: ایمان اور نفاق کی پہچان

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۶

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " حُبُّ الأَنْصَارِ آيَةُ الإِيمَانِ ، وَبُغْضُهُمْ آيَةُ النِّفَاقِ " .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” انصار سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے اور ان سے دشمنی رکھنا نفاق کی نشانی ہے۔ “

صحیح مسلم حدیث ۲۳۶ کا خلاصہ

یہ روایت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہے، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انصار سے محبت ایمان کی نشانی ہے اور ان سے دشمنی نفاق کی نشانی ہے۔ الفاظ بہت آسان ہیں، مگر سبق بڑا واضح ہے۔ حب انصار حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ ایمان والے دل میں انصار کے لیے محبت ہوتی ہے۔ اسی طرح بغض انصار کو نفاق کی علامت کہا گیا ہے۔ یہاں بحث لمبی نہیں، صرف دل کے ایک اہم رویے کو بیان کیا گیا ہے۔ مسلمان کے لیے مناسب ہے کہ وہ انصار کا ذکر عزت اور محبت سے کرے۔ یہ روایت ہمیں اپنی پسند اور ناپسند کو بھی دین کے معیار کے مطابق دیکھنے کا سبق دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • انصار کی محبت ایمان کی علامت ہے۔
  • انصار سے بغض نفاق کی علامت ہے۔
  • محبت اور دشمنی کے جذبات بھی انسان کے دینی رویے کو ظاہر کرتے ہیں۔
  • انصار کا ذکر عزت اور محبت سے کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں