صحیح مسلم حدیث ۲۳۹ - انصار سے بغض ایمان کے خلاف ہے
انصار سے بغض نہ رکھنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۳۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۹
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كِلَاهُمَا ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُبْغِضُ الأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِر " .
ابو سعید خدری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ایسے آدمی کو انصار سے بغض نہیں ہو سکتا جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۳۹ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے آدمی کو انصار سے بغض نہیں ہو سکتا جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو۔ یہ مضمون پچھلی روایت سے بہت قریب ہے۔ انصار سے بغض حدیث دل کی کیفیت کو ایمان کے ساتھ جوڑتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انصار کے بارے میں نفرت یا دشمنی ایمان والے دل کے خلاف ہے۔ یہاں نہ لمبی بحث ہے، نہ کوئی الگ واقعہ؛ صرف ایک صاف معیار ہے کہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والا انصار سے بغض نہیں رکھتا۔ اس لیے انصار کا ذکر عزت، محبت اور اچھے گمان کے ساتھ ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایمان والا انصار سے بغض نہیں رکھتا۔
- اللہ اور یوم آخرت کا ایمان دل کے رویے کو سنوارتا ہے۔
- انصار کے بارے میں نفرت سے بچنا چاہیے۔
- حدیث کا مضمون مختصر مگر بہت واضح ہے۔
