صحیح مسلم حدیث ۲۴۰ - سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت ایمان کی نشانی

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی محبت ایمان کی نشانی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۰

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ . ح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ ، إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَيَّ أَنْ " لَا يُحِبَّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ ، وَلَا يُبْغِضَنِي إِلَّا مُنَافِق " .

زر بن حبیش روایت:

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قسم ہے اس کی جس نے دانہ چیرا (پھر اس نے گھاس اگائی) اور جان بنائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد کیا تھا کہ ”نہیں محبت رکھے گا مجھ سے مگر مومن اور نہیں دشمنی رکھے گا مجھ سے مگر منافق۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۴۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد کیا تھا کہ مجھ سے محبت نہیں رکھے گا مگر مومن، اور مجھ سے دشمنی نہیں رکھے گا مگر منافق۔ اس روایت کا اصل موضوع حب علی ہے۔ حدیث کے الفاظ دل کی محبت اور دشمنی کو ایمان اور نفاق کی علامت سے جوڑتے ہیں۔ اس لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں محبت، احترام اور اچھا جذبہ ایمان والے رویے کا حصہ ہے۔ متن میں کوئی سیاسی یا تاریخی بحث نہیں آئی، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے کہ ان سے محبت مومن کی نشانی اور دشمنی منافق کی نشانی بیان ہوئی ہے۔ یہ حدیث دل کے رخ کو درست کرنے کا سبق دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت مومن کی علامت ہے۔
  • سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دشمنی منافق کی علامت بتائی گئی ہے۔
  • دل کی محبت اور نفرت دینی اعتبار سے اہم ہیں۔
  • روایت کو اسی بیان تک محدود رکھنا چاہیے، اضافی بحث شامل نہیں کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں