سنن نسائی حدیث ۹۰۴ - قراءت کا آغاز
نبی صلى الله عليه وسلم اور خلفاء کے ساتھ نماز میں قراءت کا آغاز
سنن نسائی : ۹۰۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۰۴
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ قال : صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " فَافْتَتَحُوا بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 " .
انس روایت:
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز پڑھی تو ان لوگوں نے «الحمد لله رب العالمين» سے قرآت شروع کی۔
سنن نسائی حدیث ۹۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں انس رضی اللہ عنہ اپنا عملی مشاہدہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ، پھر ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز پڑھی، تو انہوں نے قراءت کا آغاز الحمد للہ رب العالمین سے کیا۔ اس روایت کی خاص بات یہ ہے کہ راوی نے سنی سنائی بات نہیں بلکہ اپنی نماز کا تجربہ بیان کیا ہے۔ اس سے نماز کی قراءت، سورۃ فاتحہ، الحمد للہ رب العالمین اور صحابہ کے عمل کا تعلق سامنے آتا ہے۔ متن میں کوئی اضافی حکم یا تفصیل نہیں، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھا جانا چاہیے۔ یہ روایت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ نماز کا طریقہ سیکھنے میں صحابہ کے مشاہدات بہت قیمتی ہیں۔ ایک مسلمان جب نماز پڑھتا ہے تو اسے قراءت کے الفاظ اور نماز کے ادب دونوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابی کا اپنا مشاہدہ نماز کے طریقے کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
- قراءت کا آغاز الحمد للہ رب العالمین سے ہونے کا ذکر آیا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم اور خلفاء کے عمل کو جاننا نماز سیکھنے کا اہم ذریعہ ہے۔
