سنن نسائی حدیث ۹۰۵ - سورۃ الکوثر

سورۃ الکوثر، جنت کی نہر اور حوض کا بیان

سنن نسائیحدیث نمبر ۹۰۵

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قال : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قال : بَيْنَمَا ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَ أَظْهُرِنَا يُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَغْفَى إِغْفَاءَةً ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا فَقُلْنَا لَهُ : مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَزَلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ { 1 } فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ { 2 } إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الأَبْتَرُ { 3 } سورة الكوثر آية 1-3 ، ثُمَّ قَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ : " فَإِنَّهُ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي فِي الْجَنَّةِ آنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ الْكَوَاكِبِ تَرِدُهُ عَلَيَّ أُمَّتِي فَيُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْهُمْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ : إِنَّهُ مِنْ أُمَّتِي فَيَقُولُ لِي إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ بَعْدَكَ " .

انس بن مالک روایت:

ایک دن آپ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما تھے کہ یکایک آپ کو جھپکی سی آئی، پھر مسکراتے ہوئے نے اپنا سر اٹھایا، تو ہم نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کو کس چیز نے ہنسایا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر ابھی ابھی ایک سورت اتری ہے «‏‏‏‏بسم اللہ الرحمن الرحيم * إنا أعطيناك الكوثر * فصل لربك وانحر * إن شانئك هو الأبتر» ”شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے، یقیناً ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی، تو آپ اپنے رب کے لیے صلاۃ پڑھیں، اور قربانی کریں، یقیناً آپ کا دشمن ہی لاوارث اور بے نام و نشان ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟“ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جنت کی ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے وعدہ کیا ہے، جس کے آبخورے تاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہیں، میری امت اس حوض پر میرے پاس آئے گی، ان میں سے ایک شخص کھینچ لیا جائے گا تو میں کہوں گا: میرے رب! یہ تو میری امت میں سے ہے؟ تو اللہ تعالیٰ مجھ سے فرمائے گا: تمہیں نہیں معلوم کہ اس نے تمہارے بعد کیا کیا بدعتیں ایجاد کی ہیں“۔

سنن نسائی حدیث ۹۰۵ کا خلاصہ

یہ حدیث سورۃ الکوثر کی شان، کوثر کے معنی اور حوض کے ایک اہم منظر کو بیان کرتی ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم صحابہ کے درمیان تھے، آپ کو ایک جھپکی آئی، پھر آپ صلى الله عليه وسلم مسکراتے ہوئے سر اٹھا کر بتاتے ہیں کہ ابھی ایک سورت نازل ہوئی ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ سورۃ الکوثر پڑھی، پھر پوچھا کہ کوثر کیا ہے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یہ جنت کی ایک نہر ہے جس کا وعدہ میرے رب نے کیا ہے۔ اس کے برتن ستاروں سے بھی زیادہ ہیں، اور امت اس حوض پر آئے گی۔ پھر ایک شخص کو کھینچ لیا جائے گا، اور جواب ملے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ اس نے آپ کے بعد کیا نئی چیزیں پیدا کیں۔ اس حدیث میں سورۃ الکوثر، حوض کوثر اور بدعت سے بچنے کی بڑی تنبیہ موجود ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سورۃ الکوثر نبی صلى الله عليه وسلم پر نازل ہونے والی عظیم سورت ہے۔
  • کوثر کو جنت کی نہر بتایا گیا جس کا وعدہ اللہ نے فرمایا۔
  • حوض پر امت کے آنے کا ذکر ہے، مگر بعد کی نئی چیزوں سے ڈرایا بھی گیا۔
  • دین میں اپنی طرف سے نئی باتیں پیدا کرنے سے بچنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں