سنن نسائی حدیث ۹۰۸ - بسم اللہ بالجہر
بسم اللہ کو زور سے نہ سننے کی روایت
سنن نسائی : ۹۰۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۰۸
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجّ ، قال : حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ قال : " صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَجْهَرُ بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 " .
انس روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی لیکن میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی «بسم اللہ الرحمن الرحيم» زور سے پڑھتے نہیں سنا۔
سنن نسائی حدیث ۹۰۸ کا خلاصہ
انس رضی اللہ عنہ اس روایت میں کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی، مگر ان میں سے کسی کو بسم اللہ الرحمن الرحیم زور سے پڑھتے نہیں سنا۔ اس حدیث میں لفظ زور سے پڑھنے کا آیا ہے، اس لیے اصل بات یہی ہے کہ راوی نے جہر کے ساتھ بسم اللہ نہیں سنی۔ نماز میں بسم اللہ، جہری قراءت، خلفاء کا عمل اور صحابی کا مشاہدہ اس روایت کے اہم پہلو ہیں۔ یہ متن ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ عبادت کی بات کرتے وقت الفاظ کی باریکی دیکھی جائے۔ یہاں راوی نے اپنی سنی ہوئی بات بیان کی، اس لیے شرح میں بھی اسی مشاہدے کو بیان کرنا درست ہے۔ نماز کے طریقے میں اختلافی بحث کے بجائے اس روایت کا سادہ پیغام یہی ہے کہ صحابہ نماز کے عمل کو غور سے یاد رکھتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- راوی نے بسم اللہ کو زور سے نہ سننے کا ذکر کیا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ تین خلفاء کا عمل بھی اسی مشاہدے میں آیا ہے۔
- نماز کے مسائل میں حدیث کے الفاظ کو احتیاط سے سمجھنا چاہیے۔
