سنن نسائی حدیث ۹۰۷ - بسم اللہ آہستہ

نماز میں بسم اللہ نہ سنانے کا بیان

سنن نسائیحدیث نمبر ۹۰۷

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، قال : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : أَنْبَأَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قال : " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُسْمِعْنَا قِرَاءَةَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1وَصَلَّى بِنَا أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ فَلَمْ نَسْمَعْهَا مِنْهُمَا " .

انس بن مالک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، تو آپ نے ہمیں «بسم اللہ الرحمن الرحيم» کی قرآت نہیں سنائی، اور ہمیں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم نے بھی نماز پڑھائی، تو ہم نے ان دونوں سے بھی اسے نہیں سنا۔

سنن نسائی حدیث ۹۰۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، مگر آپ صلى الله عليه وسلم نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کی قراءت ہمیں نہیں سنائی۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم نے بھی ہمیں نماز پڑھائی، تو ہم نے ان دونوں سے بھی اسے نہیں سنا۔ متن میں اصل بات سننے یا نہ سننے کے مشاہدے کی ہے، اس لیے اسے اسی حد میں سمجھنا چاہیے۔ حدیث کا موضوع نماز میں بسم اللہ، قراءت کا انداز اور صحابی کا مشاہدہ ہے۔ یہاں یہ نہیں کہا جا رہا کہ ہر حالت کی مکمل فقہی تفصیل یہی ہے، بلکہ روایت ایک خاص مشاہدہ نقل کر رہی ہے۔ عام آدمی کے لیے اس میں ادب یہ ہے کہ عبادت کے مسائل میں حدیث کے الفاظ کو احتیاط سے پڑھا جائے اور بات کو متن سے آگے نہ بڑھایا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • انس رضی اللہ عنہ نے بسم اللہ نہ سننے کا اپنا مشاہدہ بیان کیا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم کا ذکر اس روایت میں آیا ہے۔
  • حدیث کے الفاظ کو اسی حد میں سمجھنا چاہیے جس حد تک وہ آئے ہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں