سنن نسائی حدیث ۹۱۵ - ام القرآن
ام القرآن جیسی کوئی سورت نہیں
سنن نسائی : ۹۱۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۱۵
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ قال : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ مِثْلَ أُمِّ الْقُرْآنِ وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَهِيَ مَقْسُومَةٌ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " .
ابی بن کعب روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ جیسی کوئی سورت نہ تو رات میں اتاری ہے اور نہ انجیل میں، یہی «سبع المثاني» ہے، یہ میرے اور میرے بندے کے بیچ بٹی ہوئی ہے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے“۔
سنن نسائی حدیث ۹۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تورات اور انجیل میں ام القرآن جیسی کوئی سورت نازل نہیں فرمائی۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ یہی سبع المثانی ہے، یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان تقسیم ہے، اور میرے بندے کے لیے وہی ہے جو وہ مانگے۔ اس روایت میں سورۃ فاتحہ کو ام القرآن کہا گیا، اور اس کی خاص شان بیان ہوئی۔ حدیث کا انداز بہت جامع ہے: ایک طرف پچھلی کتابوں کے مقابلے میں اس جیسی سورت نہ ہونے کا ذکر ہے، دوسری طرف بندے اور رب کے درمیان دعا اور جواب کا تعلق بیان ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ فاتحہ صرف تلاوت کے لیے نہیں، بلکہ نماز میں بندے کی حمد، بندگی اور دعا کا جامع کلام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورۃ فاتحہ کو ام القرآن کہا گیا ہے۔
- تورات اور انجیل میں اس جیسی سورت نہ ہونے کا ذکر آیا ہے۔
- فاتحہ کو بندے اور رب کے درمیان تقسیم بتایا گیا۔
- بندے کے لیے وہی ہے جو وہ مانگے، یہ دعا کی امید دلاتا ہے۔
