سنن نسائی حدیث ۹۳۱ - آسمان کے فرشتوں کی آمین
بندے کی آمین اور فرشتوں کی آمین
سنن نسائی : ۹۳۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۳۱
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ آمِينَ وَقَالَتِ الْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ آمِينَ فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آمین کہے اور فرشتے بھی آسمان پر آمین کہیں اور ان دونوں میں سے ایک کی آمین دوسرے کے موافق ہو جائے تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے“۔
سنن نسائی حدیث ۹۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں آمین کی فضیلت ایک اور انداز سے بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی آمین کہے اور فرشتے بھی آسمان پر آمین کہیں، پھر دونوں میں سے ایک کی آمین دوسرے کے موافق ہو جائے، تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ اس روایت میں امام کا ذکر نہیں، بلکہ آمین کہنے والے بندے اور آسمان کے فرشتوں کی آمین کا ذکر ہے۔ اصل موضوع آمین کی موافقت اور اس کی فضیلت ہے۔ یہ حدیث سکھاتی ہے کہ نماز میں آمین کوئی معمولی لفظ نہیں، بلکہ دعا کے جواب میں کہا جانے والا بابرکت کلمہ ہے، جس کے ساتھ مغفرت کی بشارت بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آمین کہتے وقت دل کی توجہ اور وقت کی رعایت اہم ہے۔
- فرشتوں کی آمین کا ذکر اس روایت میں آسمان کے ساتھ آیا ہے۔
- آمین کی موافقت پر سابقہ گناہوں کی بخشش کی بشارت ہے۔
- دعا کے جواب میں آمین کہنا نماز کا با معنی عمل ہے۔
