سنن نسائی حدیث ۹۳۰ - فاتحہ پر آمین کی فضیلت
فاتحہ ختم ہونے پر آمین کہنے کا وقت
سنن نسائی : ۹۳۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۳۰
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قَالَ الْإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 فَقُولُوا : آمِينَ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم لوگ آمین کہو، کیونکہ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے“۔
سنن نسائی حدیث ۹۳۰ کا خلاصہ
اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب امام «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم لوگ آمین کہو۔ پھر فرمایا کہ جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہو جائے، اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ اس حدیث میں آمین کہنے کا وقت، امام کی پیروی اور فرشتوں کی موافقت تینوں باتیں جمع ہیں۔ یہ روایت نماز کے اندر سورہ فاتحہ کے آخر میں آمین کہنے کی اہمیت بتاتی ہے۔ اس کا پیغام بہت سادہ ہے کہ مقتدی کو امام کے ساتھ نماز میں حاضر دل رہنا چاہیے تاکہ وہ صحیح وقت پر آمین کہہ سکے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امام جب «ولا الضالین» کہے تو آمین کہی جائے۔
- آمین کا تعلق نماز میں دعا کے جواب سے ہے۔
- فرشتوں کے قول سے موافقت کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
- نماز میں امام کے الفاظ پر توجہ رکھنا چاہیے۔
