سنن نسائی حدیث ۹۲۸ - فاتحہ کے بعد آمین
سورہ فاتحہ کے بعد آمین کہنے کی حدیث
سنن نسائی : ۹۲۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۲۸
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قال : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قال : حَدَّثَنِي مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَالَ الْإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 فَقُولُوا : آمِينَ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ آمِينَ وَإِنَّ الْإِمَامَ يَقُولُ آمِينَ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم آمين کہو، کیونکہ فرشتے آمین کہتے ہیں اور امام آمین کہتا ہے تو جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے“۔
سنن نسائی حدیث ۹۲۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں آمین کہنے کا وقت زیادہ واضح انداز میں بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب امام «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم آمین کہو۔ پھر بتایا گیا کہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے۔ جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو جائے، اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ اس روایت کا اصل موضوع سورہ فاتحہ کے آخر میں آمین کہنا ہے۔ یہ حدیث مقتدی کو امام کے ساتھ نماز میں شامل رہنے، فاتحہ کے بعد دعا کے جواب میں آمین کہنے، اور اس عمل کی فضیلت سمجھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورہ فاتحہ کے آخر پر آمین کہنے کا وقت اس روایت میں بیان ہے۔
- امام اور فرشتوں کی آمین کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
- مقتدی امام کے کہنے کے بعد آمین کہے۔
- آمین کی موافقت پر سابقہ گناہوں کی بخشش کی بشارت ہے۔
