سنن نسائی حدیث ۹۲۷ - آمین اور فرشتوں کی موافقت
آمین کی موافقت اور مغفرت کی بشارت
سنن نسائی : ۹۲۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۲۷
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قاری (امام) آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا، اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے“۔
سنن نسائی حدیث ۹۲۷ کا خلاصہ
اس روایت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قاری یعنی امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں۔ جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو جائے، اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ یہ حدیث نماز میں آمین کی فضیلت کو بہت واضح انداز میں بیان کرتی ہے۔ اس میں امام کے ساتھ چلنے، دعا کے جواب میں آمین کہنے، اور فرشتوں کی آمین کا ذکر ہے۔ مقتدی کے لیے اصل عمل یہ ہے کہ امام کے آمین کہنے کے بعد وہ بھی آمین کہے۔ روایت کی فضیلت کو الفاظ کے دائرے میں سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قاری یا امام آمین کہے تو مقتدی کو بھی آمین کہنا چاہیے۔
- فرشتوں کے آمین کہنے کا ذکر اس روایت میں خاص طور پر آیا ہے۔
- آمین کی موافقت پر سابقہ گناہوں کی بخشش کی بشارت ہے۔
- نماز میں دعا کے جواب کا ادب سکھایا گیا ہے۔
