سنن نسائی حدیث ۹۴۰ - امت کے لیے قرآت میں آسانی
امت کے لیے قرآن کے سات حروف کی آسانی
سنن نسائی : ۹۴۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۴۰
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَ أَضَاةِ بَنِي غِفَارٍ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ ، قَالَ : " أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ " ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفَيْنِ ، قَالَ : " أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ " ، ثُمَّ جَاءَهُ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ ، فَقَالَ : " أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ " ، ثُمَّ جَاءَهُ الرَّابِعَةَ فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَأَيُّمَا حَرْفٍ قَرَءُوا عَلَيْهِ فَقَدْ أَصَابُوا " قَالَ : أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : هَذَا الْحَدِيثُ خُولِفَ فِيهِ الْحَكَمُ خَالَفَهُ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ . رَوَاهُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ مُرْسَلًا .
ابی بن کعب روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ غفار کے تالاب کے پاس تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس تشریف لائے، اور کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ اپنی امت کو ایک ہی حرف پر قرآن پڑھائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ سے عفو و مغفرت کی درخواست کرتا ہوں، اور میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی“، پھر دوسری بار جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، اور انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ اپنی امت کو دو حرفوں پر قرآن پڑھائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ سے عفو و مغفرت کا طلب گار ہوں، اور میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی“، پھر جبرائیل علیہ السلام تیسری بار آپ کے پاس آئے اور انہوں کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اپنی امت کو قرآن تین حرفوں پر قرآن پڑھائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنے رب سے عفو و مغفرت کی درخواست کرتا ہوں، اور میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ہے“، پھر وہ آپ کے پاس چوتھی بار آئے، اور انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو سات حرفوں پر قرآن پڑھائیں، تو وہ جس حرف پر بھی پڑھیں گے صحیح پڑھیں گے۔ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اس حدیث میں حکم کی مخالفت کی گئی ہے، منصور بن معتمر نے ان کی مخالفت کی ہے، اسے «مجاهد عن عبيد بن عمير» کے طریق سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
سنن نسائی حدیث ۹۴۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے نقل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ غفار کے تالاب کے پاس تھے۔ جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ امت کو قرآن ایک حرف پر پڑھایا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے عفو و مغفرت مانگی اور فرمایا کہ میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ پھر دو حرف، پھر تین حرف کا حکم آیا، اور ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی طاقت کا ذکر کیا۔ چوتھی بار حکم آیا کہ امت کو قرآن سات حرفوں پر پڑھایا جائے، جس حرف پر بھی پڑھیں گے صحیح پڑھیں گے۔ آخر میں امام نسائی نے سند کے بارے میں اختلاف کی وضاحت بھی نقل کی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی آسانی کا خیال رکھا۔
- قرآن کے سات حروف کا ذکر جبرائیل علیہ السلام کے آنے کے ساتھ بیان ہوا۔
- روایت کے آخر میں امام نسائی نے سند سے متعلق اختلاف بھی ذکر کیا۔
- دینی روایات بیان کرتے وقت متن کے ساتھ سندی وضاحت بھی اہم ہے۔
