سنن نسائی حدیث ۹۴۵ - فجر کی سنتوں میں قراءت

فجر کی سنتوں میں کون سی آیات پڑھی جاتی تھیں؟

سنن نسائیحدیث نمبر ۹۴۵

أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ قال : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ قال : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ قال : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فِي الْأُولَى مِنْهُمَا الْآيَةَ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ وَفِي الْأُخْرَى " آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ " .

عبداللہ بن عباس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دونوں رکعتوں میں سے پہلی رکعت میں آیت کریمہ: «قولوا آمنا باللہ وما أنزل إلينا» (البقرہ: ۱۳۶) اخیر آیت تک، اور دوسری رکعت میں «آمنا باللہ واشهد بأنا مسلمون» (آل عمران: ۵۲) پڑھتے تھے۔

سنن نسائی حدیث ۹۴۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فجر کی دو رکعتوں میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی قراءت بیان کی ہے۔ پہلی رکعت میں آپ صلى الله عليه وسلم سورۃ البقرہ کی آیت ‘قولوا آمنا باللہ وما أنزل إلينا’ آخر آیت تک پڑھتے تھے۔ دوسری رکعت میں سورۃ آل عمران کی آیت ‘آمنا باللہ واشهد بأنا مسلمون’ پڑھتے تھے۔ اس سے فجر کی سنتوں میں قراءت کا ایک ثابت طریقہ معلوم ہوتا ہے۔ دونوں آیات ایمان، اللہ پر یقین اور اسلام کی گواہی کے مضمون پر ہیں۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ نماز فجر کی سنتوں میں مختصر مگر معنی خیز قراءت بھی نبی صلى الله عليه وسلم سے ثابت ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فجر کی دو رکعتوں میں نبی صلى الله عليه وسلم سے خاص آیات پڑھنا ثابت ہے۔
  • نماز کی قراءت میں ایمان اور اسلام کے مضمون والی آیات بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔
  • فجر کی سنتیں مختصر مگر توجہ کے ساتھ ادا کی جاتی ہیں۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم کی قراءت کو جاننا نماز کے عمل کو بہتر بناتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں