سنن نسائی حدیث ۹۴۶ - فجر کی سنتوں میں اخلاص اور کافرون
فجر کی سنتوں میں سورۃ کافرون اور اخلاص
سنن نسائی : ۹۴۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۴۶
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ دُحَيْمٌ قال : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ قال : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَرَأَ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھی۔
سنن نسائی حدیث ۹۴۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم فجر کی دونوں رکعتوں میں ‘قل يا أيها الكافرون’ اور ‘قل هو اللہ أحد’ پڑھتے تھے۔ یہ روایت فجر کی سنتوں میں قراءت کا ایک سادہ اور مشہور عمل بتاتی ہے۔ سورۃ کافرون میں دین کے معاملے میں واضح براءت کا مضمون ہے، اور سورۃ اخلاص میں اللہ کی وحدانیت بیان ہوتی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فجر کی سنتوں میں مختصر سورتیں پڑھنا نبی صلى الله عليه وسلم سے ثابت ہے۔ یہ عمل نماز کو آسان بھی رکھتا ہے اور توحید کے پیغام کو تازہ بھی کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فجر کی سنتوں میں سورۃ کافرون اور سورۃ اخلاص پڑھنا ثابت ہے۔
- مختصر قراءت کے ساتھ بھی نماز سنت کے مطابق ادا ہو سکتی ہے۔
- نماز میں توحید کے مضمون والی سورتیں پڑھنا نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل میں آیا ہے۔
- فجر کی سنتوں کو ہلکا پڑھنے کی روایات بھی اس موضوع سے ملتی ہیں۔
