سنن نسائی حدیث ۹۴۹ - فجر میں ساٹھ سے سو آیات
فجر کی نماز میں نبی صلى الله عليه وسلم کی قراءت کتنی ہوتی تھی؟
سنن نسائی : ۹۴۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۴۹
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ قال : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قال : أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ سَيَّارٍ يَعْنِي ابْنَ سَلَامَةَ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ " .
ابوبرزہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں ساٹھ سے سو آیتوں تک پڑھتے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۹۴۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو برزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم فجر کی نماز میں ساٹھ سے سو آیتوں تک پڑھتے تھے۔ اس سے فجر کی فرض نماز میں قراءت کا ایک عام انداز معلوم ہوتا ہے۔ فجر قراءت کے بارے میں یہ روایت بتاتی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کبھی لمبی قراءت بھی فرماتے تھے۔ یہاں خاص سورت کا ذکر نہیں، بلکہ آیات کی مقدار بیان ہوئی ہے۔ اس لیے حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ نماز فجر میں قرآن کی تلاوت کا حصہ نمایاں ہوتا تھا۔ یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ فجر کی فرض نماز اور فجر کی سنتوں کی قراءت ایک جیسی نہیں، کیونکہ سنتوں کے بارے میں ہلکی قراءت کی روایات بھی موجود ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فجر کی فرض نماز میں نبی صلى الله عليه وسلم سے لمبی قراءت ثابت ہے۔
- ساٹھ سے سو آیات تک پڑھنے کا ذکر فجر کی قراءت کی مقدار بتاتا ہے۔
- نماز میں قراءت حالات کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔
- فجر کی فرض نماز میں قرآن سننے کا خاص موقع ملتا ہے۔
