سنن نسائی حدیث ۹۵۰ - فجر میں سورۃ ق کی تلاوت
فجر میں سورۃ ق: نبی صلى الله عليه وسلم کی قراءت کا اثر
سنن نسائی : ۹۵۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۵۰
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ قال : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قالت : " مَا أَخَذْتُ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِهَا فِي الصُّبْحِ " .
ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان روایت:
میں نے «ق، والقرآن المجيد» کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (سن سن کر) یاد کیا ہے، آپ اسے فجر میں (بکثرت) پڑھا کرتے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۹۵۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ انہوں نے سورۃ ‘ق، والقرآن المجيد’ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پیچھے سن سن کر یاد کی، کیونکہ آپ صلى الله عليه وسلم اسے فجر میں پڑھا کرتے تھے۔ اس روایت سے فجر میں سورۃ ق کی قراءت کا عمل معلوم ہوتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امام کی بلند آواز قراءت سننے والوں پر اثر ڈالتی ہے، یہاں تک کہ بار بار سن کر کوئی سورت یاد بھی ہو سکتی ہے۔ حدیث صرف یہی بتاتی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم فجر میں یہ سورت پڑھتے تھے، اس لیے اس سے فجر کی قراءت، سورۃ ق، اور قرآن سن کر یاد کرنے کا سبق ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم فجر کی نماز میں سورۃ ق پڑھتے تھے۔
- امام کی قراءت سن کر قرآن یاد کیا جا سکتا ہے۔
- فجر کی نماز قرآن سننے اور سمجھنے کا اچھا موقع ہے۔
- صحابہ کرام نبی صلى الله عليه وسلم کی قراءت کو غور سے سنتے تھے۔
