سنن نسائی حدیث ۹۵۸ - سورۃ ص کا سجدہ شکر
سورۃ ص کا سجدہ: توبہ اور شکر کا سبق
سنن نسائی : ۹۵۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۵۸
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِقْسَمِيُّ قال : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَجَدَ فِي ص وَقَالَ : سَجَدَهَا دَاوُدُ تَوْبَةً وَنَسْجُدُهَا شُكْرًا " .
عبداللہ بن عباس روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ «ص» میں سجدہ کیا، اور فرمایا: ”داود علیہ السلام نے یہ سجدہ توبہ کے لیے کیا تھا، اور ہم یہ سجدہ (توبہ کی قبولیت پر) شکر ادا کرنے کے لیے کر رہے ہیں“۔
سنن نسائی حدیث ۹۵۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے سورۃ ص میں سجدہ کیا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ داود علیہ السلام نے یہ سجدہ توبہ کے لیے کیا تھا، اور ہم یہ سجدہ شکر کے طور پر کرتے ہیں۔ اس روایت میں سجدہ تلاوت کا ایک خاص مقام بیان ہوا ہے۔ حدیث میں توبہ اور شکر دونوں الفاظ آئے ہیں، مگر دونوں کو الگ الگ نسبت دی گئی ہے: داود علیہ السلام کے لیے توبہ، اور امت کے عمل کے لیے شکر۔ اس لیے وضاحت کرتے وقت ان دونوں کو ملا دینا درست نہیں۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت میں آنے والا سجدہ بندے کو اللہ کے سامنے جھکنے، توبہ کو یاد کرنے اور شکر ادا کرنے کی طرف لاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے سورۃ ص میں سجدہ کیا۔
- داود علیہ السلام کے سجدے کو توبہ کے ساتھ بیان کیا گیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اس سجدے کو شکر کے طور پر ادا کرنے کا ذکر فرمایا۔
- قرآن کی تلاوت بندے کو اللہ کے سامنے جھکنا سکھاتی ہے۔
