سنن نسائی حدیث ۹۸۷ - مغرب میں سورۃ المرسلات کی تلاوت
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھی
سنن نسائی : ۹۸۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۸۷
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، أَنَّهَا " سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلَاتِ " .
ام الفضل بنت حارث روایت:
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اپنی ماں (ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ` انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا۔
سنن نسائی حدیث ۹۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنی والدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا۔ یہ روایت مغرب کی نماز میں قراءت کے بارے میں ایک واضح مثال دیتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مغرب میں کبھی ایسی سورت بھی پڑھی گئی جو عام چھوٹی سورتوں سے بڑی ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ نماز کی قراءت کا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے سمجھا جائے۔ مغرب کی قراءت میں سہولت بھی ہے اور کبھی کچھ لمبی تلاوت کا ثبوت بھی ہے، اس لیے کسی ایک انداز کو ہر وقت لازم نہیں کہنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مغرب میں سورۃ المرسلات کی قراءت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
- صحابیات نے بھی نماز کی قراءت کو یاد رکھا اور روایت کیا۔
- مغرب کی نماز میں قراءت کے اندر وسعت موجود ہے۔
- حدیث کو اسی واقعے کے مطابق سمجھنا چاہیے۔
