اسلامی احکام اور فیصلے
کل احادیث 9
سنن ابو داؤد : ۳۵۷۱
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۳۵۷۱
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ وَلِيَ الْقَضَاءَ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ " .
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قاضی بنا دیا گیا (گویا) وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا“۔
سنن ابو داؤد : ۳۵۷۳
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۳۵۷۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ السَّمْتِيُّ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ : وَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ ، وَاثْنَانِ فِي النَّارِ ، فَأَمَّا الَّذِي فِي الْجَنَّةِ فَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَقَضَى بِه ، وَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَجَارَ فِي الْحُكْمِ فَهُوَ فِي النَّارِ ، وَرَجُلٌ قَضَى لِلنَّاسِ عَلَى جَهْلٍ فَهُوَ فِي النَّارِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهَذَا أَصَحُّ شَيْءٍ فِيهِ ، يَعْنِي حَدِيثَ ابْنِ بُرَيْدَةَ الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ .
´بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک جنتی اور دو جہنمی، رہا جنتی تو وہ ایسا شخص ہو گا جس نے حق کو جانا اور اسی کے موافق فیصلہ کیا، اور وہ شخص جس نے حق کو جانا اور اپنے فیصلے میں ظلم کیا تو وہ جہنمی ہے“۔ اور وہ شخص جس نے نادانی سے لوگوں کا فیصلہ کیا وہ بھی جہنمی ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یعنی ابن بریدہ کی ”تین قاضیوں“ والی حدیث اس باب میں سب سے صحیح روایت ہے۔
سنن ابو داؤد : ۳۵۸۲
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۳۵۸۲
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عَلِيّ ، قَالَ : " بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ قَاضِيًا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تُرْسِلُنِي وَأَنَا حَدِيثُ السِّنِّ ، وَلَا عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ سَيَهْدِي قَلْبَكَ ، وَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ ، فَإِذَا جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْكَ الْخَصْمَانِ فَلَا تَقْضِيَنَّ حَتَّى تَسْمَعَ مِنِ الْآخَرِ كَمَا سَمِعْتَ مِنِ الْأَوَّلِ فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يَتَبَيَّنَ لَكَ الْقَضَاءُ " ، قَالَ : فَمَا زِلْتُ قَاضِيًا أَوْ مَا شَكَكْتُ فِي قَضَاءٍ بَعْدُ .
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کا قاضی بنا کر بھیجا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے (قاضی) بنا کر بھیج رہے ہیں جب کہ میں کم عمر ہوں اور قضاء (فیصلہ کرنے) کا علم بھی مجھے نہیں ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے دل کی رہنمائی کرے گا اور تمہاری زبان کو ثابت رکھے گا، جب تم فیصلہ کرنے بیٹھو اور تمہارے سامنے دونوں فریق موجود ہوں تو جب تک تم دوسرے کا بیان اسی طرح نہ سن لو جس طرح پہلے کا سنا ہے فیصلہ نہ کرو کیونکہ اس سے معاملے کی حقیقت واشگاف ہو کر سامنے آ جائے گی“ وہ کہتے ہیں: تو میں برابر فیصلہ دیتا رہا، کہا: پھر مجھے اس کے بعد کسی فیصلے میں شک نہیں ہوا۔
