دیت اور قصاص کے مسائل
کل احادیث 2
صحیح بخاری : ۶۸۶۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۶۱
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ: «أَنْ تَدْعُوَ لِلَّهِ نِدًّا، وَهْوَ خَلَقَكَ». قَالَ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ: «ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ، أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ». قَالَ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ: «ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ». فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَهَا: {وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَلاَ يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ} الآيَةَ.
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے، ان سے عمرو بن شرجیل نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ایک صاحب یعنی خود آپ نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ کے نزدیک کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ تم اللہ کا کسی کو شریک ٹھہراؤ جبکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ پوچھا: پھر کون سا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر یہ کہ تم اپنے لڑکے کو اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا کھائے گا۔ پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا پھر یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون ومن يفعل ذلك يلق أثاما يضاعف له العذاب» ”اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ کسی ایسے انسان کی ناحق جان لیتے ہیں جسے اللہ نے حرام کیا اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو کوئی ایسا کرے گا۔“ آخر آیت تک۔
صحیح مسلم : ۴۳۴۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۴۲
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَحْيَي وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، قَالَ يَحْيَى : وَحَسِبْتُ ، قَالَ : وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّهُمَا ، قَالَا : " خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ ، وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ ، حَتَّى إِذَا كَانَا بِخَيْبَرَ تَفَرَّقَا فِي بَعْضِ مَا هُنَالِكَ ، ثُمَّ إِذَا مُحَيِّصَةُ يَجِدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَتِيلًا فَدَفَنَهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَحُوَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَتَكَلَّمَ قَبْلَ صَاحِبَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَبِّرِ الْكُبْرَ فِي السِّنِّ ، فَصَمَتَ فَتَكَلَّمَ صَاحِبَاهُ وَتَكَلَّمَ مَعَهُمَا ، فَذَكَرُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتَلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ ، فَقَالَ لَهُمْ : أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا فَتَسْتَحِقُّونَ صَاحِبَكُمْ أَوْ قَاتِلَكُمْ ، قَالُوا : وَكَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ ؟ ، قَالَ : فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا ، قَالُوا : وَكَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ ؟ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى عَقْلَهُ " .
سہل بن ابی حثمہ سے روایت ہے، یحییٰ نے کہا: شاید بشیر نے رافع بن خدیج کا بھی نام لیا کہ ان دونوں نے کہا: سیدنا عبداللہ بن سہل بن زید رضی اللہ عنہ اور سیدنا محیصہ بن مسعود بن زید رضی اللہ عنہ دونوں نکلے جب خیبر میں پہنچے تو الگ الگ ہو گئے۔ پھر سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کو کسی نے مار کر ڈال دیا ہے۔ انہوں نے دفن کیا عبداللہ کو پھر آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ اور حویصہ بن مسعود اور عبدالرحمٰن بن سہل۔ عبدالرحمٰن سے سب سے چھوٹے تھے انہوں نے چاہا بات کرنا اپنے دونوں ساتھیوں سے پہلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سن میں بڑا ہے اس کی بڑائی کر۔“ (یعنی اس کو بات کرنے دے حالانکہ عبدالرحمٰن مقتول کے حقیقی بھائی تھے اور محیصہ اور حویصہ چچا کے بیٹے تھے پر یہاں دعویٰ سے غرض نہ تھی صرف واقعات سننے تھے۔) عبدالرحمٰن چپ ہو رہا اور حویصہ اور محیصہ نے باتیں کیں، عبدالرحمٰن بھی ان کے ساتھ بولا، پھر بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عبداللہ بن سہل کے مارے جانے کے مقام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان تینوں سے ”تم پچاس قسمیں کھاتے ہو اور اپنے مورث کا خون حاصل کرتے ہو۔“ (یعنی قصاص یا دیت اور وارث تو صرف عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں کی طرف خطاب کیا اور غرض یہی تھی کہ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ قسم کھائیں) تینوں نے کہا: ہم کیونکر قسم کھائیں؟ خون کے وقت ہم نہ تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر یہود پچاس قسمیں کھا کر اس الزام سے بری ہو جائیں گے۔“ انہوں نے کہا: ہم کافروں کی قسمیں کیونکر قبول کریں گے؟ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حال دیکھا تو دیت دی۔ (اپنے پاس سے)۔
