جہاد کی فضیلت
کل احادیث 16
سنن ابو داؤد : ۲۴۹۳
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۲۴۹۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْجَوْبَرِيُّ الدِّمَشْقِيُّ الْمَعْنَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ،أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّمْلِيِّ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " الْمَائِدُ فِي الْبَحْرِ الَّذِي يُصِيبُهُ الْقَيْءُ لَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ وَالْغَرِقُ لَهُ أَجْرُ شَهِيدَيْنِ " .
´ام حرام رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جہاد یا حج کے لیے) سمندر میں سوار ہونے سے جس کا سر گھومے اور اسے قے آئے تو اس کے لیے ایک شہید کا ثواب ہے، اور جو ڈوب جائے تو اس کے لیے دو شہیدوں کا ثواب ہے“۔
سنن ابو داؤد : ۲۵۵۲
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۲۵۵۲
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، أَنَّ أَبَا بَشِيرٍ الأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ : حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : وَالنَّاسُ فِي مَبِيتِهِمْ لَا يَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلَادَةٌ مِنْ وَتَرٍ ، وَلَا قِلَادَةٌ إِلَّا قُطِعَتْ ، قَالَ مَالِكٌ : أَرَى أَنَّ ذَلِكَ مِنْ أَجْلِ الْعَيْنِ .
´ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قاصد کے ذریعہ پیغام بھیجا، لوگ اپنی خواب گاہوں میں تھے: ”کسی اونٹ کی گردن میں کوئی تانت کا قلادہ باقی نہ رہے، اور نہ ہی کوئی اور قلادہ ہو مگر اسے کاٹ دیا جائے“۔ مالک کہتے ہیں: میرا خیال ہے لوگ یہ گنڈا نظر بد سے بچنے کے لیے باندھتے تھے۔
سنن ابو داؤد : ۲۵۷۴
سنن ابو داؤدحدیث نمبر ۲۵۷۴
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا سَبْقَ إِلَّا فِي خُفٍّ أَوْ فِي حَافِرٍ أَوْ نَصْلٍ " .
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مقابلہ میں بازی رکھنا جائز نہیں ۱؎ سوائے اونٹ یا گھوڑے کی دوڑ میں یا تیر چلانے میں“۔
