اسلام میں وصیت کے احکام
کل احادیث 2
سنن نسائی : ۳۵۶۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۵۶۲
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ كَعْبٍ ، قَالَتْ : حَدَّثَتْنِي فُرَيْعَةُ بِنْتُ مَالِكٍ أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَتْ : تُوُفِّيَ زَوْجِي بِالْقَدُومِ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْتُ لَهُ ، إِنَّ دَارَنَا شَاسِعَةٌ فَأَذِنَ لَهَا ، ثُمَّ دَعَاهَا ، فَقَالَ : " امْكُثِي فِي بَيْتِكِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ " .
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی بہن فریعہ بنت مالک رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میرے شوہر کا قدوم (بستی) میں انتقال ہو گیا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ کو بتایا کہ میرا گھر (بستی سے) دور (الگ تھلگ) ہے (تو میں اپنے ماں باپ کے گھر عدت گزار لوں؟) تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ پھر انہیں بلایا اور فرمایا: ”اپنے گھر ہی میں چار مہینے دس دن رہو یہاں تک کہ عدت پوری ہو جائے“۔
سنن نسائی : ۳۵۷۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۵۷۲
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ الدُّورِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ رَخَّصَ لِلْمُتَوَفَّى عَنْهَا عِنْدَ طُهْرِهَا فِي الْقُسْطِ وَالْأَظْفَارِ " .
´ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو جس کا شوہر مر گیا ہو عدت کے دوران حیض سے پاک ہونے پر (خون کی بدبو دور کرنے کے لیے) قسط اور اظفار کے استعمال کی رخصت دی ہے۔
