زنا کے احکام

کل احادیث 3

اسلام میں زنا کے احکام، لعان اور توبہ کی فضیلت

ان احادیثِ مبارکہ میں زنا کے احکام، اس کی سنگینی، اور میاں بیوی کے درمیان لعان کے شرعی قانون کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ پہلی اور دوسری حدیث کے مطابق، جب کوئی بندہ زنا، چوری، شراب نوشی یا قتلِ ناحق جیسے سنگین گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے، تو اس وقت اس کا ایمان عارضی طور پر اس سے الگ ہو جاتا ہے۔ تاہم، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے، اور سچی توبہ کرنے پر ایمان واپس لوٹ آتا ہے۔ تیسری، چوتھی اور پانچویں حدیث میں میاں بیوی کے درمیان بدکاری کے الزام پر ہونے والے 'لعان' کے عمل کا ذکر ہے۔ احادیث کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ بغیر پختہ شرعی گواہی یا اعتراف کے کسی پر حد قائم نہیں کی جا سکتی، چاہے کوئی عورت معاشرے میں علانیہ برائی کے لیے مشہور ہی کیوں نہ ہو۔ یہ احکام اسلامی قانونِ شہادت کی سخت گیری اور انصاف پسندی کو واضح کرتے ہیں۔

وحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَي ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : ذُكِرَ الْمُتَلَاعِنَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ ، وَزَادَ فِيهِ ، بَعْدَ قَوْلِهِ كَثِيرَ اللَّحْمِ ، قَالَ : جَعْدًا قَطَطًا .

‏‏‏‏ ترجمہ دوسری روایت کا وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں اتنا زیادہ ہے کہ وہ شخص جس کے ساتھ تہمت تھی موٹا، سخت گھونگریالے بالوں والا تھا۔

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، وَعِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيَّانِ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ رُمْحٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : ذُكِرَ التَّلَاعُنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلًا ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ يَشْكُو إِلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ أَهْلِهِ رَجُلًا ، فَقَالَ عَاصِمٌ : مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا إِلَّا لِقَوْلِي ، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ ، وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا قَلِيلَ اللَّحْمِ سَبِطَ الشَّعَرِ ، وَكَانَ الَّذِي ادَّعَى عَلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ خَدْلًا آدَمَ كَثِيرَ اللَّحْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ بَيِّنْ ، فَوَضَعَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَهَا ، فَلَاعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا " ، فَقَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ : أَهِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُ هَذِهِ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ فِي الْإِسْلَامِ السُّوءَ .

عبداللہ بن عباس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لعان کا ذکر ہوا، عاصم بن عدی نے اس میں کچھ کہا، پھر وہ چلئے گئے۔ تب ان کے پاس ان کی قوم کا ایک شخص آیا اور شکایت کرنے لگا کہ اس نے اپنی بی بی کے ساتھ ایک مرد کو دیکھا عاصم نے کہا: میں اس بلا میں مبتلا ہوا اپنی بات کی وجہ سے، پھر سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ اس کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ اور اس شخص نے سارا حال آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا وہ شخص زرد رنگ، دبلا، سیدھے بال والا تھا اور جس پر دعوٰی کرتا تھا وہ پرگوشت پنڈلیوں والا، گندم رنگ، موٹا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تو کھول دے۔“ پھر وہ عورت بچہ جنی جو مشابہ تھا اس شخص کے جس پر تہمت تھی۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کروایا ان دونوں میں۔ ایک شخص بولا: اے ابن عباس! کیا یہ عورت وہی عورت تھی جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اگر میں کسی کو بغیر گواہوں کے سنگسار کرتا تو اس عورت کو کرتا۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نہیں وہ دوسری عورت تھی جو مسلمانوں میں برائی کے ساتھ مشہور تھی۔ (یعنی لوگ کہتے تھے کہ یہ فاحشہ ہے، (نہ گواہ تھے، نہ اقرار تھا)۔

وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ : وَذُكِرَ الْمُتَلَاعِنَانِ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ ابْنُ شَدَّادٍ : أَهُمَا اللَّذَانِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُهَا " ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ أَعْلَنَتْ . قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ .

قاسم بن محمد روایت:

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے لعان والوں کا ذکر ہوا تو عبداللہ بن شداد نے کہا: ان ہی میں وہ عورت تھی جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: اگر میں کسی کو بغیر گواہوں کے رجم کرتا تو اس عورت کو رجم کرتا۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نہیں وہ عورت دوسری تھی جو علانیہ بدکار تھی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں