صحیح مسلم حدیث ۳۷۶۰ - بغیر گواہی رجم نہیں
بغیر گواہی رجم نہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما کی وضاحت
صحیح مسلم : ۳۷۶۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۶۰
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ : وَذُكِرَ الْمُتَلَاعِنَانِ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ ابْنُ شَدَّادٍ : أَهُمَا اللَّذَانِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُهَا " ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ أَعْلَنَتْ . قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ .
قاسم بن محمد روایت:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے لعان والوں کا ذکر ہوا تو عبداللہ بن شداد نے کہا: ان ہی میں وہ عورت تھی جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: اگر میں کسی کو بغیر گواہوں کے رجم کرتا تو اس عورت کو رجم کرتا۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نہیں وہ عورت دوسری تھی جو علانیہ بدکار تھی۔
صحیح مسلم حدیث ۳۷۶۰ کا خلاصہ
یہ حدیث دو واقعات کو آپس میں خلط ملط نہ کرنے کی اہم مثال ہے۔ قاسم بن محمد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے لعان والوں کا ذکر ہوا تو عبداللہ بن شداد نے پوچھا کہ کیا یہ وہی عورت تھی جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی کو بغیر گواہوں کے رجم کرتا تو اس عورت کو کرتا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے صاف جواب دیا کہ نہیں، وہ دوسری عورت تھی جو علانیہ برائی کرتی تھی۔ اس روایت کا اصل سبق یہ ہے کہ حدیث سمجھتے وقت ایک واقعے کو دوسرے واقعے کے ساتھ غلط نہ ملایا جائے۔ یہاں لعان والی عورت الگ ہے اور بغیر گواہی رجم کے ذکر والی عورت الگ۔ اس حدیث کو بغیر گواہی رجم نہیں، ابن عباس کی وضاحت، اور لعان والی عورت کا فرق جیسے الفاظ سے تلاش کیا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دو الگ واقعات کو الگ رکھا۔
- بغیر گواہوں رجم والی بات لعان والی عورت کے بارے میں نہیں تھی۔
- حدیث سمجھتے وقت واقعات کو آپس میں غلط نہیں ملانا چاہیے۔
- سنگین شرعی معاملے میں گواہی اور وضاحت کی اہمیت سامنے آتی ہے۔
