صحیح بخاری حدیث ۵۳۱۰ - دعائے وضاحت اور لعان

لعان کی حدیث: الزام کے بجائے شرعی گواہی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۱۰

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّهُ ذُكِرَ التَّلَاعُنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلًا ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ يَشْكُو إِلَيْهِ أَنَّهُ قَدْ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا ، فَقَالَ عَاصِمٌ : مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا الْأَمْرِ إِلَّا لِقَوْلِي ، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا ، قَلِيلَ اللَّحْمِ ، سَبْطَ الشَّعَرِ ، وَكَانَ الَّذِي ادَّعَى عَلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَ أَهْلِهِ خَدْلًا آدَمَ ، كَثِيرَ اللَّحْمِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ بَيِّنْ ، فَجَاءَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ فَلَاعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا . قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ : هِيَ الَّتِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُ هَذِهِ ؟ فَقَالَ : لَا ، تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ فِي الْإِسْلَامِ السُّوءَ . قَالَ أَبُو صَالِحٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ : آدَمَ خَدِلًا .

ابن عباس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں لعان کا ذکر ہوا اور عاصم رضی اللہ عنہ نے اس سلسلہ میں کوئی بات کہی (کہ میں اگر اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھ لوں تو وہیں قتل کر دوں) اور چلے گئے، پھر ان کی قوم کے ایک صحابی (عویمر رضی اللہ عنہ) ان کے پاس آئے یہ شکایت لے کر کہ انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر مرد کو پایا ہے۔عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے آج یہ ابتلاء میری اسی بات کی وجہ سے ہوا ہے (جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کہی تھی) پھر وہ انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ واقعہ بتایا جس میں ملوث اس صحابی نے اپنی کو پایا تھا۔یہ صاحب زرد رنگ، کم گوشت والے (پتلے دبلے) اور سیدھے بال والے تھے اور جس کے متعلق انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ (تنہائی میں) پایا، وہ گھٹے ہوئے جسم کا، گندمی اور بھرے گوشت والا تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ! اس معاملہ کو صاف کر دے۔ چنانچہ اس عورت نے بچہ اسی مرد کی شکل کا جنا جس کے متعلق شوہر نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ پایا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میاں بیوی کے درمیان لعان کرایا۔ایک شاگرد نے مجلس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کیا یہی وہ عورت ہے جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی کو بلا شہادت کے سنگسار کر سکتا تو اس عورت کو سنگسار کرتا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نہیں (یہ جملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) اس عورت کے متعلق فرمایا تھا جس کی بدکاری اسلام کے زمانہ میں کھل گئی تھی۔ابوصالح اور عبداللہ بن یوسف نے اس حدیث میں بجائے «خدلا‏.‏» کے کسرہ کے ساتھ دال «خدلا‏.‏» روایت کیا ہے لیکن معنی وہی ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۳۱۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں لعان کا وہ واقعہ ہے جس میں ایک شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر مرد کو پانے کی شکایت کی۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے پہلے اس موضوع پر سخت بات کہی تھی، پھر انہی کی قوم کے ایک شخص کو ایسا معاملہ پیش آ گیا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے سامنے بات رکھی گئی۔ روایت میں دونوں مردوں کی ظاہری شکل کا ذکر بھی ہے، پھر نبی صلى الله عليه وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! معاملہ صاف کر دے۔ بعد میں بچہ اس شخص کے مشابہ پیدا ہوا جس کا ذکر شوہر نے کیا تھا، لیکن فیصلہ لعان کے طریقے سے ہوا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت میں الزام کو بے قابو نہیں چھوڑا جاتا، بلکہ قسم اور شرعی کارروائی کے ذریعے معاملہ طے کیا جاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سنگین الزام کو نبی صلى الله عليه وسلم کے سامنے شرعی طریقے سے رکھا گیا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے معاملہ صاف ہونے کی دعا فرمائی۔
  • آخر میں میاں بیوی کے درمیان لعان کرایا گیا۔
  • بلا شہادت سزا دینے والے سوال کو الگ واقعہ قرار دیا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں