زنا کی سزا

کل احادیث 148

اسلام میں زنا کی سزا اور اس سے متعلق احادیثِ مبارکہ

ان احادیثِ مبارکہ میں اسلام میں زنا کی سزا اور اس کی سنگینی کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ پہلی حدیث کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ حدود کا فیصلہ خالصتاً کتاب اللہ کے احکام کے مطابق کیا جائے گا۔ اگر زنا کرنے والا غیر شادی شدہ ہو، تو اس کی شرعی سزا سو کوڑے اور ایک سال کے لیے جلاوطنی (شہر بدری) ہے، جبکہ شادی شدہ مرد یا عورت کی طرف سے جرم کا اقرار ہونے پر اسے رجم (سنگسار) کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، دیگر احادیث میں اس گناہ کی روحانی اور اخلاقی تباہ کاری کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ زنا کے وقت انسان کا ایمان رخصت ہو جاتا ہے اور وہ کامل مومن نہیں رہتا۔ یہ تعلیمات ہمیں معاشرے کو پاکیزہ رکھنے اور اس قبیح گناہ سے بچنے کی تاکید کرتی ہیں۔

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، بِإِسْنَادِ يَحْيَى ، وَمَعْنَاهُ قَالَ : جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ .

´اس طریق سے بھی حسن سے یحییٰ والی سند ہی سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے` اس میں ہے (جب غیر کنوارا مرد غیر کنواری عورت کے ساتھ زنا کرے تو) سو کوڑے اور رجم ہے۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاكِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ جَمِيعًا ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، وَقَالَ هِشَامٌ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيُّ ، عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ هَذَا الْحَدِيثِ .

´اس سند سے بھی الجلاج سے یہی` روایت مرفوعاً آئی ہے اس میں اس حدیث کا کچھ حصہ ہے۔

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، عَنْ هُشَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ بِنَحْوٍ مِنْهُ .

´اس سند سے بھی` شعبی سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالْأَسْوَدِ ، قَالَا : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي عَالَجْتُ امْرَأَةً مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ فَأَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ أَنْ أَمَسَّهَا فَأَنَا هَذَا فَأَقِمْ عَلَيَّ مَا شِئْتَ ، فَقَالَ عُمَرُ : قَدْ سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْكَ لَوْ سَتَرْتَ عَلَى نَفْسِكَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ فَأَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا ، فَدَعَاهُ فَتَلَا عَلَيْهِ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ سورة هود آية 114 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَهُ خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ كَافَّةً ؟ فَقَالَ : لِلنَّاسِ كَافَّةً " .

´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: مدینہ کے آخری کنارے کی ایک عورت سے میں لطف اندوز ہوا، لیکن جماع نہیں کیا، تو اب میں حاضر ہوں میرے اوپر جو چاہیئے حد قائم کیجئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ نے تیری پردہ پوشی کی تھی تو تو خود بھی پردہ پوشی کرتا تو بہتر ہوتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، تو وہ شخص چلا گیا، پھر اس کے پیچھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بھیجا، وہ اسے بلا کر لایا تو آپ نے اس پر یہ آیت تلاوت فرمائی «وأقم الصلاة طرفى النهار وزلفا من الليل» ”دن کے دونوں سروں میں نماز قائم کرو اور رات کی کچھ ساعتوں میں بھی“۔ (ھود: ۱۱۴)  ۱؎ تو ان میں سے ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا یہ اسی کے لیے خاص ہے، یا سارے لوگوں کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سارے لوگوں کے لیے ہے“۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَنَادَاهُ ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ : إِنِّي زَنَيْتُ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، حَتَّى رَدَّدَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ ، دَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَبِكَ جُنُونٌ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَهَلْ أَحْصَنْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ ؟ "

´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ اور سعید بن المسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ایک صاحب ماعز بن مالک اسلمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے، انہوں نے آپ کو آواز دی اور کہا کہ یا رسول اللہ! میں نے زنا کر لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ انہوں نے یہ بات چار دفعہ دہرائی جب چار دفعہ انہوں نے اس گناہ کی اپنے اوپر شہادت دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور دریافت فرمایا کیا تم دیوانے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ پھر کیا تم شادی شدہ ہو؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں لے جاؤ اور رجم کر دو۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ ، وَأَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَنْبَأَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " اسْتُكْرِهَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَرَأَ عَنْهَا الْحَدَّ وَأَقَامَهُ عَلَى الَّذِي أَصَابَهَا وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ جَعَلَ لَهَا مَهْرًا " .

´وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت کے ساتھ جبراً بدکاری کی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر حد نہیں لگائی بلکہ اس شخص پر حد جاری کی جس نے اس کے ساتھ جبراً بدکاری کی تھی، اس روایت میں اس کا تذکرہ نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مہر بھی دلایا ہو ۱؎۔

وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي كِلَاهُمَا ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمَا الْبِكْرُ يُجْلَدُ ، وَيُنْفَى ، وَالثَّيِّبُ يُجْلَدُ وَيُرْجَمُ لَا يَذْكُرَانِ سَنَةً وَلَا مِائَةً .

‏‏‏‏ وہی ہے جو اوپر گزرا اس میں ایک سال کی مدت اور کوڑوں کا شمار نہیں ہے۔

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَيْضًا وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي مَنْسَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ كَمَا ذَكَرَ عُقَيْلٌ ،

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں