مہر
کل احادیث 70
اسلام میں مہر کے احکام اور آسان نکاح کی ترغیب: احادیثِ مبارکہ کا خلاصہ
اسلامی شرعیت میں مہر کی ادائیگی نکاح کا ایک اہم اور لازمی حصہ ہے، تاہم اس معاملے میں آسانی اور سہولت کو پسند کیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک احادیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مہر کے لیے کوئی بہت بڑی رقم یا مہنگی اشیاء کا ہونا ہی ضروری نہیں، بلکہ نکاح کو آسان بنانے کے لیے معمولی مادی چیز، یہاں تک کہ لوہے کی ایک انگوٹھی بھی بطور مہر دی جا سکتی ہے۔ اگر کسی شخص کے پاس کوئی بھی مادی سامان موجود نہ ہو، تو وہ قرآن مجید کی ان سورتوں کو مہر قرار دے سکتا ہے جو اسے زبانی یاد ہوں، تاکہ وہ اپنی شریکِ حیات کو ان سورتوں کی تعلیم دے سکے۔ یہ خوبصورت تعلیمات ظاہر کرتی ہیں کہ دینِ اسلام میں مہر کی اصل روح عورت کا احترام اور نکاح میں برکت لانا ہے، نہ کہ اسے کسی کے لیے مالی بوجھ بنانا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، أَنَّ خَالَتَهُ أَخْبَرَتْهُ ، عَنِ امْرَأَةٍ ، قَالَتْ : هِيَ مُصَدَّقَةٌ امْرَأَةُ صِدْقٍ ، قَالَتْ : بَيْنَا أَبِي فِي غَزَاةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذْ رَمِضُوا ، فَقَالَ رَجُلٌ : مَنْ يُعْطِينِي نَعْلَيْهِ وَأُنْكِحُهُ أَوَّلَ بِنْتٍ تُولَدُ لِي ؟ فَخَلَعَ أَبِي نَعْلَيْهِ ، فَأَلْقَاهُمَا إِلَيْهِ ، فَوُلِدَتْ لَهُ جَارِيَةٌ فَبَلَغَتْ ، وَذَكَرَ نَحْوَهُ ، لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ الْقَتِيرِ .
´ابراہیم بن میسرہ کی روایت ہے کہ` ایک عورت جو نہایت سچی تھی، کہتی ہے: میرے والد زمانہ جاہلیت میں ایک غزوہ میں تھے کہ (تپتی زمین سے) لوگوں کے پیر جلنے لگے، ایک شخص بولا: کوئی ہے جو مجھے اپنی جوتیاں دیدے؟ اس کے عوض میں پہلی لڑکی جو میرے یہاں ہو گی اس سے اس کا نکاح کر دوں گا، میرے والد نے جوتیاں نکالیں اور اس کے سامنے ڈال دیں، اس کے یہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی اور پھر وہ بالغ ہو گئی، پھر اسی جیسا قصہ بیان کیا لیکن اس میں «قتیر» کا واقعہ مذکور نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبِي حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْبَاهِلِيِّ ، عَنْ عِسْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، نَحْوَ هَذِهِ الْقِصَّةِ ، لَمْ يَذْكُرِ الْإِزَارَ وَالْخَاتَمَ ، فَقَالَ : " مَا تَحْفَظُ مِنَ الْقُرْآنِ ؟ " قَالَ : سُورَةَ الْبَقَرَةِ ، أَوِ الَّتِي تَلِيهَا ، قَالَ : " فَقُمْ ، فَعَلِّمْهَا عِشْرِينَ آيَةً وَهِيَ امْرَأَتُكَ " .
ابوہریرہ روایت:
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی واقعہ کی طرح مروی ہے` لیکن اس میں تہبند اور انگوٹھی کا ذکر نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے قرآن میں سے کیا یاد ہے؟“ جواب دیا: سورۃ البقرہ یا اس کے بعد والی سورت تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اسے بیس آیتیں سکھا دو اور وہ تمہاری بیوی ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كَانَ الصَّدَاقُ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَةَ أَوَاقٍ " .
ابوہریرہ روایت:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں باحیات تھے اس وقت مہر دس اوقیہ ہوتا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُدْخِلَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَهَا شَيْئًا " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَ خَيْثَمَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک عورت کو اس کے شوہر کے پاس پہنچا دینے کا حکم دیا قبل اس کے کہ وہ اسے کچھ دے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: خیثمہ کا سماع ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا حُبَيْشُ بْنُ مُبَشِّرٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا وَتَزَوَّجَهَا " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا، اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر مقرر کر کے ان سے شادی کر لی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ أًظَنَّهُ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تُدْخِلَ عَلَى رَجُلٍ امْرَأَتَهُ قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَهَا شَيْئًا " .
عائشہ روایت:
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ شوہر کے پاس اس کی بیوی کو بھیج دیں اس سے پہلے کہ شوہر نے اس کو کوئی چیز دی ہو۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا تَزَوَّجَ عَلِيٌّ فَاطِمَةَ ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْطِهَا شَيْئًا " ، قَالَ : مَا عِنْدِي شَيْءٌ ، قَالَ : " أَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
جب علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے کہا: ”اسے کچھ دے دو“، انہوں نے کہا: میرے پاس تو کچھ بھی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہاری حطمی زرہ کہاں ہے؟“۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ : حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : " رَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِي بْنِ الرَّبِيعِ ، بَعْدَ سِتِّ سِنِينَ بِالنِّكَاحِ الْأَوَّلِ وَلَمْ يُحْدِثْ نِكَاحًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ بِإِسْنَادِهِ بَأْسٌ وَلَكِنْ لَا نَعْرِفُ وَجْهَ هَذَا الْحَدِيثِ ، وَلَعَلَّهُ قَدْ جَاءَ هَذَا مِنْ قِبَلِ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ ، مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ .
عبداللہ بن عباس روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب کو ابوالعاص بن ربیع رضی الله عنہ کے پاس چھ سال بعد پہلے نکاح ہی پر واپس بھیج دیا اور پھر سے نکاح نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا " .
انس بن مالک روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَشُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔
