اسلام کے پانچ ارکان
کل احادیث 44
اسلام کے پانچ ارکان اور ان کی اہمیت پر مبنی مستند احادیث
اسلام کے بنیادی ارکان کے بارے میں احادیث ہمیں سیدھا اور سچا راستہ دکھاتی ہیں۔ ان مبارک احادیث میں بتایا گیا ہے کہ جب ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سی چیز اسے جنت کے قریب اور جہنم سے دور کر سکتی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں ذکر ہے کہ جب ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دین کے احکامات یعنی دن اور رات میں پانچ وقت کی نمازیں، سال میں رمضان کے روزے، مال کی زکوٰۃ اور استطاعت ہونے پر بیت اللہ کے حج کے بارے میں پوچھا اور عہد کیا کہ وہ ان میں کوئی کمی یا بیشی نہیں کرے گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشخبری دی کہ اگر یہ اپنی بات میں سچا ہے تو یقیناً جنت میں جائے گا۔ اسلامی اسکالرز کے مطابق یہ احادیث واضح کرتی ہیں کہ ارکانِ اسلام پر خلوصِ دل سے عمل کرنا ہی نجات کا واحد ذریعہ ہے۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْر ٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ وَأَبُوهُ عُثْمَانُ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ .
امام مسلم نے ایک اور سند سے بھی روایت بیان کی کہ ابوایوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ " .
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز پڑھنے پر اور زکوٰۃ دینے پر اور ہر مسلمان کی خیرخواہی پر بیعت کی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ سَمِعَ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَلَى النُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ " .
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر مسلمان کی خیرخواہی کے لیے بیعت کی۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : " بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ ، فَلَقَّنَنِي فِيمَا اسْتَطَعْتَ ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ " ، قَالَ يَعْقُوبُ فِي رِوَايَتِهِ : قَالَ : حَدَّثَنَا سَيَّارٌ .
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی سن لینے اور مان لینے کی (یعنی جو حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے اس کو سنوں گا اور بجا لاوَں گا)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھلا دیا اتنا اور کہا کہ تو کہہ: ”جہاں تک مجھے قدرت ہے“۔ (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمال شفقت تھی اپنی امت پر کہ شاید کوئی حکم دشوار ہو اور نہ ہو سکے تو بیعت میں خلل آئے اس لیے اتنا اور بڑھا دیا کہ جہاں تک مجھ سے ہو سکے) اور اس بات پر میں نے بیعت کی کہ ہر مسلمان کا خیر خواہ رہوں گا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ؟ , قَالَ : تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا ".
ابوہریرہ روایت:
ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی کہ آپ مجھے کوئی ایسا کام بتلائیے جس پر اگر میں ہمیشگی کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی عبادت کر ‘ اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہرا ‘ فرض نماز قائم کر ‘ فرض زکوٰۃ دے اور رمضان کے روزے رکھ۔دیہاتی نے کہا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ‘ ان عملوں پر میں کوئی زیادتی نہیں کروں گا۔ جب وہ پیٹھ موڑ کر جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی ایسے شخص کو دیکھنا چاہے جو جنت والوں میں سے ہو تو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا ، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ ، إِذَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، قَالَ : " تَعْبُدُ اللَّهَ ، لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ " ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا شَيْئًا أَبَدًا ، وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ ، فَلَمَّا وَلَّى ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا " .
ابوہریرہ روایت:
ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا: یا رسول اللہ! مجھ کو بتلائیے کوئی ایسا کام جس کے کرنے سے میں جنت میں چلا جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کام یہ ہے کہ عبادت کرے تو اللہ کی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے اور قائم کرے تو نماز کو اور دے زکوٰۃ جو فرض ہے اور رمضان کے روزے رکھے۔“ وہ شخص بولا: قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں نہ اس سے زیادہ کروں گا نہ اس سے کم، تب وہ پیٹھ پھیر کر چلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے پسند ہو کہ جنتی کو دیکھے تو اس کو دیکھے۔“
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْر بَعْدَهُ ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِأَبِي بَكْرٍ : كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ ؟ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ ، حَتَّى يَقُولُوا ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَمَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي ، مَالَهُ ، وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ " ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا ، كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : فَوَاللَّهِ ، مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ .
ابوہریرہ روایت:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے اور عرب کے لوگ جو کافر ہونے تھے وہ کافر ہو گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: تم ان لوگوں سے کیونکر لڑو گے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”مجھ کو حکم ہوا ہے لوگوں سے لڑنے کا یہاں تک کہ وہ «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» کہیں۔ پھر جس نے «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» کہا اس نے مجھ سے اپنے مال اور جان کو بچا لیا مگر کسی نے حق کے بدلے (یعنی کسی قصور کے بدلے جیسے زنا کرے یا خون کرے تو پکڑا جائے گا) پھر حساب اس کا اللہ پر ہے۔“ (اگر اس کے دل میں کفر ہوا اور ظاہر میں ڈر کے مارے مسلمان ہو گیا تو قیامت میں اللہ اس سے سمجھ لے گا۔ دنیا ظاہر پر ہے، دنیا میں اس سے کوئی مواخذہ نہ ہو گاسیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو لڑوں گا اس شخص سے جو فرق کرے نماز اور زکوٰۃ میں، اس لئے کہ زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر وہ ایک عقال روکیں گے جو دیا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو میں لڑوں گا ان سے اس کے نہ دینے پر۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم پھر وہ کچھ نہ تھا مگر میں نے یقین کیا کہ اللہ جل جلالہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ کھول دیا ہے لڑائی کے لئے (یعنی ان کے دل میں یہ بات ڈال دی) تب میں نے جانا کہ حق یہی ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ ، شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَالْحَجِّ ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔ اول گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ الأَحْمَرَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسَةٍ ، عَلَى أَنْ يُوَحَّدَ اللَّهُ ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ ، وَالْحَجِّ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : الْحَجِّ ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ ؟ قَالَ : لا صِيَامِ رَمَضَانَ ، وَالْحَجِّ ، هَكَذَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
عبداللہ بن عمر روایت:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام بنایا گیا ہے پانچ چیزوں پر یعنی پانچ ستونوں پر اسلام کھڑا ہے (یہ تشبیہ ہے اسلام کو ایک گھر کی مانند سمجھو یا چھت جس میں پانچ کھمبے ہوں) اللہ جل جلالہ کی توحید، نماز کو قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا، حج کرنا“۔ ایک شخص بولا: حج اور رمضان کے روزے (یعنی حج کو پہلے کیا اور روزوں کو بعد) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رمضان کے روزے اور حج۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں ہی سنا۔
وحَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ السُّلَمِيُّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ ، عَلَى أَنْ يُعْبَدَ اللَّهُ ، وَيُكْفَرَ بِمَا دُونَهُ ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَحَجِّ الْبَيْتِ ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام پانچ ستونوں پر کھڑا کیا گیا ہے ایک یہ کہ اللہ ہی کی عبادت کی جائے اور اس کے سوا (تمام جھوٹے معبودوں) کا انکار کیا جائے، دوسرے نماز پڑھنا، تیسرے زکوٰۃ دینا، چوتھے بیت اللہ کا حج کرنا، پانچویں رمضان کے روزے رکھنا۔“
