جانوروں کی قربانی
کل احادیث 57
جانوروں کی قربانی اور عتیرہ سے متعلق احادیث کا مجموعہ
اس باب میں جانوروں کی قربانی، فرع اور عتیرہ کے احکام سے متعلق اہم احادیث مبارکہ جمع کی گئی ہیں۔ احادیث کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمانۂ جاہلیت کی بعض رسموں جیسے 'فرع' (اونٹ کا پہلا بچہ جسے بتوں کے نام پر ذبح کیا جاتا تھا) اور 'عتیرہ' (رجب کے مہینے میں دی جانے والی قربانی) کے واجب ہونے کی نفی فرمائی اور واضح کیا کہ یہ لازم یا واجب نہیں ہیں۔ البتہ بعض روایات کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر فرع کو ذبح کرنے کے بجائے اسے بڑا ہونے دیا جائے اور اللہ کی راہ میں سواری کے لیے یا کسی بیوہ اور مسکین کو تحفے میں دے دیا جائے، تو یہ اس کو چھوٹے بچے کی حالت میں ذبح کرنے سے کہیں بہتر ہے کیونکہ چھوٹے بچے کا گوشت کم ہوتا ہے اور اس سے اونٹنی کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔ اسلامی اسکالرز کے مطابق ان احادیث سے ہمیں جانوروں کی قربانی کے درست طریقے اور اعتدال پسندی کا درس ملتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سَمِعَ الْمُعْتَمِرَ ، أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ : " أَنَّهُ كَانَتْ لَهُمْ غَنَمٌ تَرْعَى بِسَلْعٍ ، فَأَبْصَرَتْ جَارِيَةٌ لَنَا بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِنَا مَوْتًا ، فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ ، فَقَالَ لَهُمْ : لَا تَأْكُلُوا حَتَّى أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ أُرْسِلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَسْأَلُهُ ، وَأَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَاكَ أَوْ أَرْسَلَ ، فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا " ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : فَيُعْجِبُنِي أَنَّهَا أَمَةٌ ، وَأَنَّهَا ذَبَحَتْ ، تَابَعَهُ عَبْدَةُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ .
´ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے معتمر سے سنا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبیداللہ نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہوں نے ابن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ اپنے والد سے بیان کرتے تھے کہ` ان کے پاس بکریوں کا ایک ریوڑ تھا۔ جو سلع پہاڑی پر چرنے جاتا تھا (انہوں نے بیان کیا کہ) ہماری ایک باندی نے ہمارے ہی ریوڑ کی ایک بکری کو (جب کہ وہ چر رہی تھی) دیکھا کہ مرنے کے قریب ہے۔ اس نے ایک پتھر توڑ کر اس سے اس بکری کو ذبح کر دیا۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ جب تک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں میں پوچھ نہ لوں اس کا گوشت نہ کھانا۔ یا (یوں کہا کہ) جب تک میں کسی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کے بارے میں پوچھنے کے لیے نہ بھیجوں، چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا، یا کسی کو (پوچھنے کے لیے) بھیجا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا گوشت کھانے کے لیے حکم فرمایا۔ عبیداللہ نے کہا کہ مجھے یہ بات عجیب معلوم ہوئی کہ باندی (عورت) ہونے کے باوجود اس نے ذبح کر دیا۔ اس روایت کی متابعت عبدہ نے عبیداللہ کے واسطہ سے کی ہے۔
وحَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرِ الشَّكَّ فِي قَوْلِهِ هِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ .
شعبہ سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور اس میں شک ذکر نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرع اور عتیرہ واجب نہیں“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثْتُ أَبَا إِسْحَاق ، عَنْ مَعْمَرٍ ، وَسُفْيَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ أَحَدُهُمَا : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْفَرَعِ وَالْعَتِيرَةِ " . وَقَالَ الْآخَرُ : " لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرع اور عتیرہ سے منع فرمایا (دوسری روایت میں ہے کہ) آپ نے فرمایا: ”فرع اور عتیرہ واجب نہیں ہے“۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : أَنَا فَتَلْتُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ ، ثُمَّ قَلَّدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ ، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا مَعَ أَبِي ، " فَلَمْ يَحْرُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ أَحَلَّهُ اللَّهُ لَهُ ، حَتَّى نُحِرَ الْهَدْيُ " .
عائشہ روایت:
میں نے اپنے ہاتھوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے قلادے بٹے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جانوروں کو یہ قلادے اپنے ہاتھ سے پہنائے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جانور میرے والد کے ساتھ (مکہ میں قربانی کے لیے) بھیجے۔ ان کی قربانی کی گئی۔ لیکن (اس بھیجنے کی وجہ سے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی ایسی چیز حرام نہیں ہوئی جسے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال کیا تھا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا ذَبَحَ لِنَفْسِهِ ، وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ ، فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ ، وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی اس نے اپنی ذات کے لیے جانور ذبح کیا اور جس نے نماز عید کے بعد قربانی کی اس کی قربانی پوری ہوئی۔ اس نے مسلمانوں کی سنت کو پا لیا۔
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ : " مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ ، فَلْيُعِدْ ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ ، وَذَكَرَ جِيرَانَهُ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ ، فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ ، فَلَا أَدْرِي بَلَغَتِ الرُّخْصَةُ مَنْ سِوَاهُ ، أَمْ لَا ، ثُمَّ انْكَفَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كَبْشَيْنِ ، فَذَبَحَهُمَا ، وَقَامَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا ، أَوْ قَالَ : فَتَجَزَّعُوهَا " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن فرمایا کہ جس نے نماز عید سے پہلے قربانی ذبح کر لی ہے وہ دوبارہ قربانی کرے اس پر ایک صاحب نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ وہ دن ہے جس میں گوشت کھانے کی خواہش ہوتی ہے پھر انہوں نے اپنے پڑوسیوں کا ذکر کیا اور (کہا کہ) میرے پاس ایک سال سے کم کا بکری کا بچہ ہے جس کا گوشت دو بکریوں کے گوشت سے بہتر ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی۔مجھے نہیں معلوم کہ یہ اجازت دوسروں کو بھی ہے یا نہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف مڑے اور انہیں ذبح کیا پھر لوگ بکریوں کی طرف بڑھے اور انہیں تقسیم کر کے (ذبح کیا)۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ رَجُلًا ذَبَحَ يَوْمَ النَّحْرِ يَعْنِي قَبْلَ الصَّلَاةِ ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ " .
انس بن مالک روایت:
ایک شخص نے قربانی کے دن قربانی کر لی یعنی نماز عید سے پہلے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، وَهِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى ثُمَّ خَطَبَ ، فَأَمَرَ مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ أَنْ يُعِيدَ ذِبْحًا ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ ،
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی پھر خطبہ دے کر حکم فرمایا کہ جس آدمی نے نماز (عید) سے پہلے قربانی ذبح کر لی ہے وہ دوبارہ قربانی ذبح کر لے۔ پھر ابن علیہ کی حدیث کی طرح حدیث مبارکہ ذکر کی۔
وحَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ يَحْيَي الْحَسَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ وَرْدَانَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أَضْحًى ، قَالَ : فَوَجَدَ رِيحَ لَحْمٍ ، فَنَهَاهُمْ أَنْ يَذْبَحُوا ، قَالَ : مَنْ كَانَ ضَحَّى فَلْيُعِدْ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو خطبہ سنایا عیدالاضحی کے روز، پھر گوشت کی بو پائی اور منع کیا ان کو ذبح کرنے سے (نماز سے پہلے) اور فرمایا: ”جو ذبح کر چکا ہو وہ پھر ذبح کرے۔“ پھر بیان کیا حدیث کو اسی طرح جیسے اوپر گزری۔
