صحیح مسلم حدیث ۵۰۸۱ - عید الاضحی کی قربانی کا صحیح وقت
قربانی کا وقت: عید کی نماز سے پہلے ذبح کرنے کا حکم
صحیح مسلم : ۵۰۸۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۸۱
وحَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ يَحْيَي الْحَسَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ وَرْدَانَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أَضْحًى ، قَالَ : فَوَجَدَ رِيحَ لَحْمٍ ، فَنَهَاهُمْ أَنْ يَذْبَحُوا ، قَالَ : مَنْ كَانَ ضَحَّى فَلْيُعِدْ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو خطبہ سنایا عیدالاضحی کے روز، پھر گوشت کی بو پائی اور منع کیا ان کو ذبح کرنے سے (نماز سے پہلے) اور فرمایا: ”جو ذبح کر چکا ہو وہ پھر ذبح کرے۔“ پھر بیان کیا حدیث کو اسی طرح جیسے اوپر گزری۔
صحیح مسلم حدیث ۵۰۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع قربانی کا وقت ہے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عید الاضحی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، پھر گوشت کی بو محسوس ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ کچھ لوگوں نے نماز سے پہلے قربانی کر لی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس طرح ذبح کرنے سے منع فرمایا اور حکم دیا کہ جس نے پہلے قربانی کر لی ہے وہ دوبارہ قربانی کرے۔ یہ حدیث صاف بتاتی ہے کہ عید الاضحی کی قربانی میں جلدی کرنا درست نہیں، بلکہ قربانی کا صحیح وقت نماز اور خطبہ کے بعد ہے۔ اس میں قاعدہ پسندی، عبادت میں پیروی، اور حکم نبوی کو ماننے کی تعلیم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قربانی وقت سے پہلے کر لی جائے تو اس کی تلافی کا حکم دیا گیا۔
- عید الاضحی میں جلدی کے بجائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی پیروی ضروری ہے۔
- عبادت میں صرف نیت کافی نہیں، طریقہ اور وقت بھی درست ہونا چاہیے۔
- قربانی کے مسائل میں اپنی رائے کے بجائے شرعی ہدایت کو دیکھا جائے۔
