صحیح مسلم حدیث ۵۰۸۲ - قربانی کے جانور کی عمر کا حکم
قربانی کے جانور کی عمر: مسنہ اور جذعہ کا آسان بیان
صحیح مسلم : ۵۰۸۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۸۲
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ " .
جابر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت ذبح کرو قربانی میں مگر مسنہ (جو ایک برس کا ہو کر دوسرے میں لگا ہو) البتہ جب تم کو ایسا جانور نہ ملے تو دنبہ کا جذعہ کرو۔“ (جو چھ مہینہ کا ہو کر ساتویں میں لگا ہو)۔
صحیح مسلم حدیث ۵۰۸۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں قربانی کے جانور کی عمر کا مسئلہ بیان ہوا ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی میں مسنہ ہی ذبح کرو، مگر جب تمہیں ایسا جانور نہ ملے تو دنبہ کا جذعہ ذبح کرو۔ عام فہم انداز میں بات یہ ہے کہ قربانی کے جانور کے لیے عمر کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ حدیث میں پہلے مسنہ کا حکم آیا، پھر مشکل کی صورت میں دنبہ کے جذعہ کی گنجائش بیان ہوئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کے جانور کا انتخاب صرف پسند یا سہولت پر نہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی حد کے مطابق ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قربانی کے جانور کی عمر کا خیال رکھنا حدیث سے ثابت ہے۔
- اصل حکم مسنہ جانور کا ہے، دنبہ کا جذعہ مشکل کی صورت میں آیا ہے۔
- قربانی میں جانور کا انتخاب شرعی ہدایت کے مطابق ہونا چاہیے۔
- مجبوری کی صورت میں حدیث میں آسانی بھی بیان ہوئی ہے۔
