صحیح مسلم حدیث ۵۰۸۵ - جذعہ جانور کی قربانی

قربانی میں جذعہ جانور: ایک سوال اور نبوی جواب

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۸۵

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ بَعْجَةَ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا ضَحَايَا ، فَأَصَابَنِي جَذَعٌ ، فَقُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ أَصَابَنِي جَذَعٌ ، فَقَالَ : " ضَحِّ بِهِ " .

عقبہ بن عامر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو قربانی کی بکریاں بانٹیں تو میرے حصہ میں ایک جذعہ آیا (ایک برس کا بچہ) میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میرے حصہ میں ایک جذعہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی کی قربانی کر۔“

صحیح مسلم حدیث ۵۰۸۵ کا خلاصہ

یہ حدیث قربانی کے جانور کے بارے میں ایک آسان اور واضح واقعہ بیان کرتی ہے۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ میں قربانی کی بکریاں تقسیم فرمائیں۔ ان کے حصے میں ایک جذعہ آیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے حصے میں جذعہ آیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی کی قربانی کرو۔ اس حدیث کا اصل فائدہ یہ ہے کہ جب قربانی کے جانور کے بارے میں کوئی مسئلہ پیش آئے تو اندازے یا گھبراہٹ کے بجائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی بات کو اختیار کیا جائے۔ روایت میں جو اجازت آئی ہے، وہ اسی بیان کے ساتھ نقل کی گئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قربانی کے مسئلے میں سوال کرنا صحابہ کا طریقہ تھا۔
  • جس جانور کے بارے میں شک ہو، اس کا حکم معلوم کر کے عمل کرنا چاہیے۔
  • اس روایت میں جذعہ کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب نقل ہوا ہے۔
  • قربانی میں خود ساختہ فیصلہ کرنے کے بجائے شرعی رہنمائی بہتر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں