صحیح مسلم حدیث ۵۰۸۴ - جذعہ بکری کی قربانی کا بیان
جذعہ بکری کی قربانی: عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی روایت
صحیح مسلم : ۵۰۸۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۸۴
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِى حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى أَصْحَابِهِ ضَحَايَا ، فَبَقِيَ عَتُودٌ فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ضَحِّ بِهِ أَنْتَ " ، قَالَ قُتَيْبَةُ : عَلَى صَحَابَتِهِ .
عقبہ بن عامر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بکریاں دیں اپنے ساتھیوں کو بانٹنے کے لیے، قربانی کے لیے، پھر ایک برس کا بچہ بچ رہا۔ بکری کا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی کی قربانی کر۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۰۸۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں قربانی کے جانور کی تقسیم اور ایک خاص جانور کے بارے میں سوال کا ذکر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو بکریاں دیں تاکہ وہ صحابہ میں قربانی کے لیے تقسیم کریں۔ تقسیم کے بعد ایک برس کا بکری کا بچہ باقی رہ گیا۔ انہوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کی قربانی کرو۔ اس روایت میں حکم ایک خاص واقعے کے طور پر آیا ہے، اس لیے اسے اسی دائرے میں سمجھنا چاہیے۔ حدیث سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ قربانی کے مسئلے میں صحابہ سوال کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق عمل کرتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قربانی کے جانور کے بارے میں شبہ ہو تو اہل علم سے پوچھنا چاہیے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم قربانی کے معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت لیتے تھے۔
- اس روایت میں ایک خاص بچے ہوئے جانور کی قربانی کی اجازت آئی ہے۔
- قربانی کی تقسیم میں امانت اور ذمہ داری کا پہلو بھی نظر آتا ہے۔
