صحیح مسلم حدیث ۵۰۸۳ - قربانی میں نبی صلى الله عليه وسلم کی پیروی
قربانی کا صحیح وقت اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی پیروی
صحیح مسلم : ۵۰۸۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۸۳
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمَدِينَةِ ، فَتَقَدَّمَ رِجَالٌ فَنَحَرُوا وَظَنُّوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَحَرَ ، " فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ نَحَرَ قَبْلَهُ أَنْ يُعِيدَ بِنَحْرٍ آخَرَ ، وَلَا يَنْحَرُوا حَتَّى يَنْحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی یوم النحر کو مدینہ میں تو کئی آدمیوں نے آتے ہی قربانی کر لی اور یہ سمجھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قربانی کر لی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے قربانی کر لی ہو وہ دوبارہ قربانی کرے اور جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی نہ کریں تم قربانی نہ کرو۔ (اس سے امام مالک رحمہ اللہ کا مذہب ثابت ہوتا ہے کہ جب تک امام قربانی نہ کرے لوگ بھی نہ کریں)۔
صحیح مسلم حدیث ۵۰۸۳ کا خلاصہ
اس روایت میں یوم النحر کے دن قربانی کے وقت کا اہم حکم آیا ہے۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں نماز پڑھائی۔ کچھ لوگوں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کر چکے ہیں، اس لیے انہوں نے جلدی قربانی کر لی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جس نے آپ سے پہلے قربانی کی ہے وہ دوبارہ قربانی کرے، اور لوگ قربانی نہ کریں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کر لیں۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس میں صحیح وقت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی بھی شامل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قربانی میں اندازے پر عمل کرنے کے بجائے صحیح حکم کا انتظار کیا جائے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے بعد قربانی کرنے کا حکم اس روایت میں آیا ہے۔
- وقت سے پہلے کی گئی قربانی پر دوبارہ قربانی کا حکم دیا گیا۔
- عبادت میں جلدی کبھی کبھی غلطی کا سبب بن سکتی ہے۔
