قبروں کی زیارت

کل احادیث 36

قبروں کی زیارت کے احکام، فضیلت اور مسنون دعائیں

اس باب میں قبروں کی زیارت اور اہل قبور کے لیے دعا کرنے کے متعلق اہم اور مستند احادیث بیان کی گئی ہیں۔ احادیث مبارکہ کے مطابق، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں بقیع الغرقد (قبرستان) تشریف لے جاتے تھے اور وہاں موجود مؤمنین اور مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور رحمت کی دعا فرماتے تھے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اہل بقیع کے پاس جا کر ان کے لیے استغفار کرنے کا حکم دیا تھا۔ ان احادیث سے ہمیں یہ ہدایت ملتی ہے کہ قبرستان جانے کا اصل مقصد آخرت کی یاد اور فوت شدگان کے لیے عافیت اور بخشش کی دعا کرنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو قبرستان داخل ہوتے وقت اہل قبور کو سلام کرنے اور ان کے لیے عافیت مانگنے کے مسنون کلمات بھی سکھائے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَى الْمَقَابِرِ ، فَكَانَ قَائِلُهُمْ يَقُولُ : - فِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ ، وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَلَاحِقُونَ أَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ " .

‏‏‏‏ سلیمان بن بریدہ کے باپ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو سکھلاتے تھے جب وہ قبروں کی طرف نکلتے۔ پس ان میں کا کہنے والا کہتا یہ لفظ ابوبکر کی روایت کے ہیں، سلام ہو گھر والوں پر اور زہیر کی روایت میں (یہ لفظ ہیں) سلام ہو تم پر اے صاحب گھروں کے مؤمنوں اور مسلمانوں سے اور تحقیق ہم اگر اللہ نے چاہا تو تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔ ہم اپنے اور تمہارے لیے عافیت مانگتے ہیں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيَسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ ، فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي تَعَالَى عَلَى أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي ، فَاسْتَأْذَنْتُ أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا ، فَأَذِنَ لِي ، فَزُورُوا الْقُبُورَ ، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ بِالْمَوْتِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ کی قبر پر آئے تو رو پڑے اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو (بھی) رلا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے اپنی ماں کی مغفرت طلب کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت نہیں دی گئی، پھر میں نے ان کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت چاہی تو مجھے اس کی اجازت دے دی گئی، تو تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ وہ موت کو یاد دلاتی ہے“۔

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَرَجَ إِلَى الْمَقْبَرَةِ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان گئے تو فرمایا: «‏‏‏‏السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء الله بكم لاحقون» ”سلامتی ہو تم پر اے مومن قوم کی بستی والو! ہم بھی ان شاءاللہ آ کر آپ لوگوں سے ملنے والے ہیں“۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " زُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الْآخِرَةَ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبروں کی زیارت کیا کرو، اس لیے کہ یہ تم کو آخرت کی یاد دلاتی ہیں“۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى ، وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ ، فَقَالَ : اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يَأْذَنْ لِي ، وَاسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي ، فَزُورُوا الْقُبُورَ ، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمَ الْمَوْتَ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی تو آپ روئے، اور آپ کے گرد جو لوگ تھے انہیں بھی رلایا، اور فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ اپنی ماں کے لیے استغفار کروں، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کی اجازت نہیں دی، اور میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اجازت دے دی، لہٰذا تم قبروں کی زیارت کیا کرو اس لیے کہ وہ موت کو یاد دلاتی ہے“۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ أَبُو نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَالِبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زُوَّارَاتِ الْقُبُورِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ ، فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ ، فَقَالَ : " اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي ، وَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأُذِنَ لِي ، فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتَ " .

ابوہریرہ روایت:

زیارت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم روئے اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے ان کو رلایا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے اجازت مانگی اپنی ماں کی بخشش مانگنے کی تو مجھے اجازت نہ ملی، پھر میں نے قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت مل گئی پس تم بھی قبر کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ تمہیں موت یاد کراتی ہے۔

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : زَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ ، فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ وَقَالَ : " اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي ، وَاسْتَأْذَنْتُ فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي ، فَزُورُوا الْقُبُورَ ، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الْمَوْتَ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی، تو آپ خود رو پڑے اور جو آپ کے اردگرد تھے انہیں بھی رلا دیا، اور فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے اجازت چاہی کہ میں ان کے لیے مغفرت طلب کروں تو مجھے اجازت نہیں ملی، (تو پھر) میں نے ان کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت دے دی گئی، تم لوگ قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ تمہیں موت کی یاد دلاتی ہے“۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ زَوَّارَاتِ الْقُبُورِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ : أَنَّ هَذَا كَانَ قَبْلَ أَنْ يُرَخِّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، فَلَمَّا رَخَّصَ دَخَلَ فِي رُخْصَتِهِ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ ، وقَالَ بَعْضُهُمْ : إِنَّمَا كُرِهَ زِيَارَةُ الْقُبُورِ لِلنِّسَاءِ لِقِلَّةِ صَبْرِهِنَّ وَكَثْرَةِ جَزَعِهِنَّ .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ ، وَكَانَ وَكَانَ فَأَيْنَ هُوَ ؟ ، قَالَ : " فِي النَّارِ " ، قَالَ : فَكَأَنَّهُ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيْنَ أَبُوكَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَيْثُمَا مَرَرْتَ بِقَبْرِ كَافِرٍ ، فَبَشِّرْهُ بِالنَّارِ " ، قَالَ : فَأَسْلَمَ الْأَعْرَابِيُّ بَعْدُ ، وَقَالَ : لَقَدْ كَلَّفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَبًا ، مَا مَرَرْتُ بِقَبْرِ كَافِرٍ ، إِلَّا بَشَّرْتُهُ بِالنَّارِ .

عبداللہ بن عمر روایت:

ایک اعرابی (دیہاتی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہا: اللہ کے رسول! میرے والد صلہ رحمی کیا کرتے تھے، اور اس اس طرح کے اچھے کام کیا کرتے تھے، تو اب وہ کہاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جہنم میں ہیں“ اس بات سے گویا وہ رنجیدہ ہوا، پھر اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کے والد کہاں ہیں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی مشرک کی قبر کے پاس سے گزرو، تو اس کو جہنم کی خوشخبری دو“ اس کے بعد وہ اعرابی (دیہاتی) مسلمان ہو گیا، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر ایک ذمہ داری ڈال دی ہے، اب کسی بھی کافر کی قبر سے گزرتا ہوں تو اسے جہنم کی بشارت دیتا ہوں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں