غزوہ خندق
کل احادیث 9
غزوہ خندق (احزاب) کے اہم واقعات اور مستند احادیث
ان مستند احادیث میں غزوہ خندق (غزوہ احزاب) کے دوران پیش آنے والے ایمان افروز واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔ احادیث کے مطابق، اس جنگ کے دوران شدید سردی اور سخت حالات کا سامنا تھا، جہاں نبی کریم ﷺ نے خود صحابہ کرام کے ساتھ مل کر خندق کی مٹی ڈھوئی اور مہاجرین و انصار کے لیے مغفرت اور آخرت کے عیش کی دعائیں فرمائیں۔ اسی دوران حضور ﷺ کی دعا کی برکت سے سیدنا حذیفہ بن الیمان دشمن کے کیمپ سے سخت سردی میں بھی بغیر کسی تکلیف کے باحفاظت خبر لے کر آئے۔ اسلامی ماہرین کے مطابق، جنگ سے واپسی پر جب بنی قریظہ کی طرف جانے اور ظہر کی نماز کے وقت کے بارے میں صحابہ کے درمیان اجتہادی اختلاف ہوا، تو نبی کریم ﷺ نے کسی بھی گروہ پر ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا، جو اسلام میں فہم اور اطاعت کے وسیع پہلوؤں کو ظاہر کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ ، قَالَ : إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ ان لوگوں نے ہجوم کیا ہم پر اور سرکشی کی (بخاری کی روایت میں بھی یہی ہے)۔
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : نَادَى فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ انْصَرَفَ عَنْ الْأَحْزَابِ " أَنْ لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الظُّهْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ " ، فَتَخَوَّفَ نَاسٌ فَوْتَ الْوَقْتِ فَصَلَّوْا دُونَ بَنِي قُرَيْظَةَ ، وَقَالَ آخَرُونَ : لَا نُصَلِّي إِلَّا حَيْثُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنْ فَاتَنَا الْوَقْتُ ، قَالَ : فَمَا عَنَّفَ وَاحِدًا مِنَ الْفَرِيقَيْنِ .
عبداللہ بن عمر روایت:
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ احزاب سے لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے پکارا کوئی ظہر کی نماز نہ پڑھے جب تک بنی قریظہ کے محلہ میں نہ پہنچے، بعض لوگ ڈرے ایسا نہ ہو کہ نماز قضا ہو جائے۔ انہوں نے وہاں پہنچنے سے پہلے پڑھ لی اور بعض نے کہا کہ ہم نہیں پڑھیں گے مگر جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اگرچہ نماز قضا ہو جائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں گروہوں میں سے کسی گروہ پر خفا نہیں ہوئے۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ ، وَالْمُهَاجِرَهْ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اللہ! نہیں ہے عیش مگر عیش آخرت کا اور بخش دے انصار اور مہاجرین کو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَةِ " ، قَالَ شُعْبَةُ ، أَوَ قَالَ : " اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ فَأَكْرِمْ الْأَنْصَارَ ، وَالْمُهَاجِرَهْ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”یا اللہ! عیش آخرت ہی کا عیش ہے تو کرم کر انصار اور مہاجرین پر۔“
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ، وقَالَ شَيْبَانُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانُوا يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم معهم وهم ، يقولون : " اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ ، فَانْصُرْ الْأَنْصَارَ ، وَالْمُهَاجِرَهْ " ، وَفِي حَدِيثِ شَيْبَانَ بَدَلَ فَانْصُرْ : فَاغْفِرْ .
انس بن مالک روایت:
صحابہ رجز پڑھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے وہ کہتے تھے، یااللہ! نہیں ہے خیر مگر آخرت کی خیر، تو مدد کر انصار اور مہاجرین کی۔ اور شیبان کی روایت میں ہے بخش دے انصار اور مہاجرین کو۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانُوا يَقُولُونَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ : نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْإِسْلَامِ مَا بَقِينَا أَبَدًا ، أَوَ قَالَ : عَلَى الْجِهَادِ ، شَكَّ حَمَّادٌ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ ، وَالمُهَاجِرَهْ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب خندق کے دن کہتے تھے ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے بیعت کی ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر یا جہاد پر جب تک ہم زندہ رہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ”یا اللہ! بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے تو بخش دے انصار اور مہاجرین کو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ يَنْقُلُ مَعَنَا التُّرَابَ وَلَقَدْ وَارَى التُّرَابُ بَيَاضَ بَطْنِهِ وَهُوَ يَقُولُ : وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْتَ ، مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا ، فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا ، إِنَّ الْأُلَى قَدْ أَبَوْا عَلَيْنَا ، قَالَ : وَرُبَّمَا قَالَ : إِنَّ الْمَلَا قَدْ أَبَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا " ، وَيَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ ،
براء بن عازب روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احزاب کے دن ہمارے ساتھ تھے مٹی ڈھوتے تھے (جب خندق کھودی گئی مدینہ کے گرد) اور مٹی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ کی سفیدی کو چھپا لیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے: ”قسم اللہ کی اگر تو ہدایت نہ کرتا تو ہم راہ نہ پاتے اور نہ ہم صدقہ دیتے، نہ نماز پڑھتے تو اتار اپنی رحمت کو ہم پر ان لوگوں نے (یعنی مکہ والوں نے) نہ مانا ہمارا کہنا (یعنی ایمان نہ لائے۔ اور ایک روایت میں ہے اس جماعت نے نہ مانا ہمارا کہنا جب وہ فساد کی بات کرنا چاہتے ہیں یعنی شرک اور کفر وغیرہ) تو ہم نہیں شریک ہوتے ان کے“ اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَحْفِرُ الْخَنْدَقَ ، وَنَنْقُلُ التُّرَابَ عَلَى أَكْتَافِنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ ، فَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرِينَ ، وَالْأَنْصَارِ " .
سہل بن سعد روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور ہم خندق کھود رہے تھے اور مٹی اپنے کاندھوں پر ڈھو رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اللہ! نہیں ہے عیش مگر آخرت کا عیش اور بخش دے تو مہاجرین اور انصار کو۔“
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا ، عَن جَرِيرٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ ، فَقَالَ رَجُلٌ : لَوْ أَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلْتُ مَعَهُ وَأَبْلَيْتُ ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَنْتَ كُنْتَ تَفْعَلُ ذَلِكَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْأَحْزَابِ ، وَأَخَذَتْنَا رِيحٌ شَدِيدَةٌ وَقُرٌّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَسَكَتْنَا فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ ، ثُمَّ قَالَ : أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَسَكَتْنَا فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ ، ثُمَّ قَالَ : أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَسَكَتْنَا فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ ، فَقَالَ : قُمْ يَا حُذَيْفَةُ فَأْتِنَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ، فَلَمْ أَجِدْ بُدًّا إِذْ دَعَانِي بِاسْمِي أَنْ أَقُومَ ، قَالَ : اذْهَبْ فَأْتِنِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَلَا تَذْعَرْهُمْ عَلَيَّ " ، فَلَمَّا وَلَّيْتُ مِنْ عِنْدِهِ جَعَلْتُ كَأَنَّمَا أَمْشِي فِي حَمَّامٍ حَتَّى أَتَيْتُهُمْ ، فَرَأَيْتُ أَبَا سُفْيَانَ يَصْلِي ظَهْرَهُ بِالنَّارِ ، فَوَضَعْتُ سَهْمًا فِي كَبِدِ الْقَوْسِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْمِيَهُ ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا تَذْعَرْهُمْ عَلَيَّ وَلَوْ رَمَيْتُهُ لَأَصَبْتُهُ ، فَرَجَعْتُ وَأَنَا أَمْشِي فِي مِثْلِ الْحَمَّامِ ، فَلَمَّا أَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَفَرَغْتُ قُرِرْتُ ، فَأَلْبَسَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَضْلِ عَبَاءَةٍ كَانَتْ عَلَيْهِ يُصَلِّي فِيهَا ، فَلَمْ أَزَلْ نَائِمًا حَتَّى أَصْبَحْتُ ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ ، قَالَ : قُمْ يَا نَوْمَانُ " .
یزید بن شریک تیمی روایت:
ہم سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے۔ ایک شخص بولا، اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں ہوتا تو جہاد کرتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور کوشش کرتا لڑنے میں، حذیفہ نے کہا تو ایسا کرتا۔ (یعنی تیرا کہنا معتبر نہیں ہو سکتا کرنا اور ہے اور کہنا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جو کوشش کی تو اس سے بڑھ کر نہ کر سکتاتم دیکھو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے احزاب (جمع ہے حزب کی، حزب کہتے ہیں گروہ کو، اس جنگ کو جو ۵ ھ ہجری میں ہوئی غزوۂ احزاب کہتے ہیں اس لیے کہ کافروں کے بہت سے گروہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کو آئے تھے) کی رات کو اور ہوا بہت تیز چل رہی تھی اور سردی بھی خوب چمک رہی تھی۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص ہے جو کافروں کی خبر لائے اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن میرے ساتھ رکھے گا۔“یہ سن کر ہم لوگ خاموش ہو رہے اور کسی نے جواب نہ دیا (کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ ایسی سردی میں رات کو خوف کی جگہ میں جائے اور خبر لائے حالانکہ صحابہ کی جانثاری اور ہمت مشہور ہے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص ہے جو کافروں کی خبر میرے پاس لائے اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن میرے ساتھ رکھے گا۔“ کسی نے جواب نہ دیا سب خاموش ہو رہے۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حذیفہ! اٹھ اور کافروں کی خبر لا۔“اب مجھے کچھ نہ بنا کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام لے کر حکم دیا جانے کا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا اور خبر لے کر آ کافروں کی اور مت اکسانا ان کو مجھ پر (یعنی ایسا کوئی کام نہ کرنا جس سے ان کو غصہ آئے اور وہ تجھ کو ماریں یا لڑائی پر مستعد ہوں) جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے چلا تو ایسا معلوم ہوا جیسے کوئی حمام کے اندر چل رہا ہے (یعنی سردی بالکل کافور ہو گئی بلکہ گرمی معلوم ہوتی تھی یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت تھی۔ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تو نفس کو ناگوار ہوتی ہے لیکن جب مستعدی سے شروع کر دے تو بجائے تکلیف کے لذت اور راحت حاصل ہوتی ہے) یہاں تک کہ کافروں کے پاس پہنچا۔دیکھا تو ابوسفیان اپنی کمر کو آگ سے سینک رہا ہے۔ میں نے تیر کمان پر چڑھایا اور قصد کیا مارنے کا۔ پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد آیا کہ ایسا کوئی کام نہ کرنا جس سے ان کو غصہ پیدا ہو اگر میں مار دیتا تو بے شک ابوسفیان کو لگتا، آخر میں لوٹا۔ پھر مجھے ایسا معلوم ہوا کی حمام کے اند چل رہا ہوں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور سب حال کہہ دیا اس وقت سردی معلوم ہوئی (یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بڑا معجزہ تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنا ایک فاضل کمبل اوڑھا دیا جس کو اوڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا کرتے تھے میں اس کو اوڑھ کر جو سویا تو صبح تک سوتا رہا جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اٹھ بہت سونے والے۔“
