غزوہ طائف
کل احادیث 2
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الشَّاعِرِ الْأَعْمَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : " حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ فَلَمْ يَنَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا ، فَقَالَ : إِنَّا قَافِلُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، قَالَ أَصْحَابُهُ : نَرْجِعُ وَلَمْ نَفْتَتِحْهُ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ ، فَغَدَوْا عَلَيْهِ فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا ، قَالَ : فَأَعْجَبَهُمْ ذَلِكَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے (اور بعض نسخوں میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ہے جو عاص کے بیٹے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھیر لیا طائف والوں کو اور نہیں حاصل کیا ان سے کچھ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم لوٹ چلیں گے اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے کہا: بغیر فتح کہ ہم لوٹ جائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“ ”اچھا صبح کو لڑو، وہ لڑے اور زخمی ہوئے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم کل لوٹ جائیں گے۔“ یہ ان کو بھلا معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الشَّاعِرِ الْأَعْمَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّائِفَ ، فَلَمْ يَنَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا ، قَالَ : " إِنَّا قَافِلُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " ، فَثَقُلَ عَلَيْهِمْ ، وَقَالُوا : نَذْهَبُ وَلَا نَفْتَحُهُ ، وَقَالَ مَرَّةً : نَقْفُلُ ، فَقَالَ : " اغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ " ، فَغَدَوْا ، فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ ، فَقَالَ : " إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ " ، فَأَعْجَبَهُمْ ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : فَتَبَسَّمَ ، قَالَ : قَالَ الْحُمَيْدِيُّ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْخَبَرَ كُلَّهُ .
عبداللہ بن عمر روایت:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا تو دشمن کا کچھ بھی نقصان نہیں کیا۔ آخر آپ نے فرمایا کہ اب ان شاءاللہ ہم واپس ہو جائیں گے۔ مسلمانوں کے لیے ناکام لوٹنا بڑا شاق گزرا۔ انہوں نے کہا کہ واہ بغیر فتح کے ہم واپس چلے جائیں (راوی نے) ایک مرتبہ «نذهب» کے بجائے «نقفل» کا لفظ استعمال کیا یعنی ہم۔۔۔ لوٹ جائیں اور طائف کو فتح نہ کریں (یہ کیونکر ہو سکتا ہے) اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر صبح سویرے میدان میں جنگ کے لیے آ جاؤ۔ پس وہ صحابہ سویرے ہی آ گئے لیکن ان کی بڑی تعداد زخمی ہو گئی۔اب پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان شاءاللہ ہم کل واپس چلیں گے۔ صحابہ نے اسے بہت پسند کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ہنس پڑے۔ اور سفیان نے ایک مرتبہ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دئیے۔حمیدی نے کہا کہ ہم سے سفیان نے یہ پوری خبر بیان کی۔
