جنگ میں عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت
کل احادیث 4
جنگ میں عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت اور جنگ کے آداب
اسلام کے نظامِ حرب میں انسانی حقوق اور اخلاقیات کو اولین حیثیت حاصل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث مبارکہ میں دورانِ جنگ مشرکین کی عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے اور کسی معصوم عورت کے مقتول پائے جانے پر شدید مذمت کا اظہار کیا۔ تاہم، بعض استثنائی حالات جیسے رات کے اچانک حملوں (بیات) میں نادانستہ طور پر گھوڑوں تلے آ جانے والے بچوں اور عورتوں کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کیا کہ وہ اپنے والدین کے حکم میں شمار ہوتے ہیں بشرطیکہ انہیں جان بوجھ کر نشانہ نہ بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی، احادیث سے یہ رہنمائی بھی ملتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کے لیے بہترین وقت کا انتخاب فرماتے تھے، جیسے سورج ڈھلنے کے بعد کا وقت جب نصرتِ الٰہی کی ہوائیں چلتی ہیں اور مومن مجاہدین کے لیے دعائیں کرتے ہیں، تاکہ جنگ میں حکمت اور امن قائم ہو سکے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا اللَّيْثِ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ " أَنَّ امْرَأَةً ، وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتُولَةً ، فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
ایک عورت پائی گئی ایک لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جس کو مار ڈالا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا عورتوں اور بچوں کو مارنے سے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " وُجِدَتِ امْرَأَةٌ مَقْتُولَةً فِي بَعْضِ تِلْكَ الْمَغَازِي ، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
ایک عورت پائی گئی ایک لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جس کو مار ڈالا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا عورتوں اور بچوں کو مارنے سے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ امْرَأَةً وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتُولَةً ، فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ ، " وَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ " ، وَفِي الْبَاب ، عَنْ بُرَيْدَةَ ، وَرَبَاحٍ وَيُقَالُ : رِيَاحُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَالْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَالصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ ، كَرِهُوا قَتْلَ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَالشَّافِعِيِّ ، وَرَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْبَيَاتِ ، وَقَتْلِ النِّسَاءِ فِيهِمْ وَالْوِلْدَانِ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ ، وَإِسْحَاق ، وَرَخَّصَا فِي الْبَيَاتِ .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی غزوے میں ایک عورت مقتول پائی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مذمت کی اور عورتوں و بچوں کے قتل سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ خَيْلَنَا أُوطِئَتْ مِنْ نِسَاءِ الْمُشْرِكِينَ وَأَوْلَادِهِمْ ، قَالَ : " هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
صعب بن جثامہ روایت:
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے گھوڑوں نے مشرکین کی عورتوں اور بچوں کو روند ڈالا ہے، آپ نے فرمایا: ”وہ بھی اپنے آبا و اجداد کی قسم سے ہیں“۔
