صحیح مسلم حدیث ۴۵۴۸ - جنگ میں عورتوں اور بچوں کی حرمت
جنگ میں عورتوں اور بچوں سے متعلق نبوی ہدایت
صحیح مسلم : ۴۵۴۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۴۸
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " وُجِدَتِ امْرَأَةٌ مَقْتُولَةً فِي بَعْضِ تِلْكَ الْمَغَازِي ، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
ایک عورت پائی گئی ایک لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جس کو مار ڈالا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا عورتوں اور بچوں کو مارنے سے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۵۴۸ کا خلاصہ
اس روایت میں بھی وہی واقعہ بیان ہوا ہے کہ ایک غزوہ میں ایک عورت مقتول پائی گئی، پھر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔ یہ حدیث سادہ الفاظ میں ایک بڑا اصول بتاتی ہے کہ جنگ کا معاملہ بھی بے لگام نہیں۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے اس موقع پر ممانعت فرما کر واضح کر دیا کہ کچھ حدود ہیں جن کا خیال رکھا جائے گا۔ اس حدیث کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ یہ صرف نظری بات نہیں، بلکہ ایک واقعے پر نبی صلى الله عليه وسلم کا عملی ردعمل ہے۔ جنگ میں عورتوں اور بچوں کی ممانعت والی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اسلام میں طاقت کے استعمال کے ساتھ جواب دہی اور حد بھی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عورتوں اور بچوں کے قتل سے نبی صلى الله عليه وسلم نے منع فرمایا۔
- جنگ کے حالات میں بھی اخلاقی حد باقی رہتی ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے غلط واقعے پر خاموشی اختیار نہیں فرمائی۔
- مسلمان کو حکم کے سامنے اپنی رائے کو پیچھے رکھنا چاہیے۔
