صحیح مسلم حدیث ۴۵۴۹ - رات کے حملے میں عورتوں اور بچوں کا سوال
شب خون کی حدیث: خاص سوال کا خاص جواب
صحیح مسلم : ۴۵۴۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۴۹
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جميعا ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ ، قَالَ : " سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الذَّرَارِيِّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُبَيَّتُونَ ، فَيُصِيبُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ ، فَقَالَ : هُمْ مِنْهُمْ " .
صعب بن جثامہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا مشرکین کی اولاد کا جب رات کے چھاپے میں مارے جائیں اسی طرح عورتیں ان کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ان میں داخل ہیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۵۴۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا، جب رات کے چھاپے میں ان کی عورتیں اور بچے بھی زد میں آ جائیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: وہ ان میں داخل ہیں۔ اس حدیث کو سمجھتے وقت بات کو اسی سوال تک محدود رکھنا ضروری ہے۔ یہاں عمومی طور پر عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنانے کی بات نہیں کی گئی، بلکہ رات کے حملے میں زد میں آنے کا سوال ہے۔ شب خون کی حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم کا جواب مختصر ہے، اس لیے اس سے زیادہ بات بڑھانا درست نہیں۔ متن ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دینی بات کرتے ہوئے سوال، موقع اور الفاظ کا خیال رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کا جواب اسی سوال کے دائرے میں سمجھنا چاہیے۔
- یہ روایت رات کے حملے میں زد میں آنے کے سوال سے متعلق ہے۔
- دینی متن بیان کرتے وقت الفاظ سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔
- مشکل مسائل میں احتیاط اور صحیح نسبت ضروری ہے۔
