صحیح مسلم حدیث ۴۵۵۰ - مشرکین کی اولاد اور شب خون کا مسئلہ

مشرکین کی اولاد سے متعلق شب خون والی روایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۵۰

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ ، قَالَ : " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نُصِيبُ فِي الْبَيَاتِ مِنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ ، قَالَ : هُمْ مِنْهُمْ " .

صعب بن جثامہ روایت:

میں نے عرض کی یا رسول اللہ! ہم رات کو چھاپے میں مشرکوں کی اولاد کو بھی مار ڈالتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بھی مشرکوں میں داخل ہیں۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۵۵۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم رات کے چھاپے میں مشرکوں کی اولاد کو بھی مار ڈالتے ہیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: وہ بھی مشرکوں میں داخل ہیں۔ یہ روایت ایک مخصوص حالت کے بارے میں ہے، یعنی رات کا چھاپہ اور اس میں غیر الگ شدہ آبادی کا زد میں آ جانا۔ اس لیے اس حدیث کو عام قتل کی اجازت کے طور پر بیان کرنا درست انداز نہیں۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، اس لیے وضاحت بھی انہی الفاظ کے اندر رہنی چاہیے۔ شب خون کی حدیث ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مشکل سوالات میں نبی صلى الله عليه وسلم کے الفاظ کو امانت سمجھ کر نقل کیا جائے، اپنی طرف سے اضافہ نہ کیا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یہ روایت رات کے چھاپے کے خاص سوال سے متعلق ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم کے جواب کو اسی عبارت تک محدود رکھنا چاہیے۔
  • دینی مسئلے میں اپنی طرف سے بات بڑھانا درست نہیں۔
  • روایت نقل کرتے وقت امانت داری ضروری ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں