صحیح مسلم حدیث ۴۵۵۱ - رات کے حملے میں بچوں کے بارے میں جواب
رات کے حملے میں بچوں کا سوال: حدیث کا محتاط فہم
صحیح مسلم : ۴۵۵۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۵۱
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ : أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ : " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قِيلَ لَهُ : لَوْ أَنَّ خَيْلًا أَغَارَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَأَصَابَتْ مِنْ أَبْنَاءِ الْمُشْرِكِينَ ، قَالَ : " هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ " .
صعب بن جثامہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا، اگر سوار رات کو حملہ کریں اور مشرکوں کے بچے مارے جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بھی ان کے باپوں میں سے ہیں۔“ (یعنی مشرکوں میں سے)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۵۵۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سوال یہ کیا گیا کہ اگر سوار رات کو حملہ کریں اور مشرکوں کے بچے مارے جائیں تو کیا حکم ہے؟ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ وہ بھی اپنے باپوں میں سے ہیں۔ روایت کے الفاظ سے صاف ہے کہ سوال رات کے حملے میں زد میں آنے کا ہے، نہ کہ عام طور پر بچوں کو نشانہ بنانے کا۔ اس لیے اس حدیث کو سمجھتے ہوئے پچھلی اور اگلی باتوں کو ملائے بغیر اسی متن پر رہنا چاہیے۔ شب خون اور مشرکین کی اولاد کے بارے میں یہ حدیث ہمیں دینی احتیاط سکھاتی ہے۔ جو بات نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمائی وہی کہی جائے، اور جو بات متن میں نہیں اسے حدیث کا حصہ نہ بنایا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سوال رات کے حملے میں زد میں آنے سے متعلق تھا۔
- حدیث کے الفاظ کو ان کے خاص موقع کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
- بچوں کو الگ نشانہ بنانے کی بات اس متن میں نہیں ہے۔
- دینی بیان میں احتیاط اور حد بندی ضروری ہے۔
