صحیح بخاری حدیث ۳۰۱۵ - عورتوں اور بچوں کے قتل سے ممانعت

عورتوں بچوں کو قتل نہ کرو: جنگی اخلاق کی واضح حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۱۵

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ حَدَّثَكُمْ عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : وُجِدَتِ امْرَأَةٌ مَقْتُولَةً فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ ، وَالصِّبْيَانِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کسی غزوے میں مقتول پائی گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا (تو انہوں نے اس کا اقرار کیا)۔

صحیح بخاری حدیث ۳۰۱۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کسی غزوے میں ایک عورت مقتول پائی گئی۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا۔ عورتوں بچوں کو قتل نہ کرو والی حدیث بہت مختصر مگر صاف ہے۔ اس میں واقعہ بھی ہے اور حکم بھی۔ متن کے مطابق ایک عورت کے قتل کا معاملہ سامنے آیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع کیا۔ اس روایت سے جنگی اخلاق کا وہ پہلو سامنے آتا ہے جس میں کمزور اور غیر جنگجو طبقوں کے بارے میں احتیاط رکھی گئی۔ علمائے کرام کے مطابق ایسے احکام کو ہمیشہ شرعی اختیار اور جنگی قانون کے دائرے میں سمجھا جاتا ہے، عام افراد کے ذاتی عمل کے طور پر نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا۔
  • حدیث میں ایک مقتول عورت کے واقعے کے بعد یہ حکم آیا۔
  • جنگی معاملے میں بھی حدود اور احتیاط کا درس ملتا ہے۔
  • ایسے احکام ذاتی تشدد کے لیے دلیل نہیں بنائے جا سکتے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں