صحیح بخاری حدیث ۳۰۱۴ - عورتوں اور بچوں کے قتل پر انکار

عورتوں اور بچوں کے قتل سے ممانعت: جنگی اخلاق کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۱۴

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ امْرَأَةً وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتُولَةً ، فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَتْلَ النِّسَاءِ ، وَالصِّبْيَانِ " .

عبداللہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک غزوہ (غزوہ فتح) میں ایک عورت مقتول پائی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل پر انکار کا اظہار فرمایا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۰۱۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک غزوہ میں ایک عورت مقتول پائی گئی۔ جب یہ بات سامنے آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل پر انکار کا اظہار فرمایا۔ عورتوں اور بچوں کے قتل سے ممانعت والی حدیث جنگی اخلاق کا ایک واضح پہلو سامنے لاتی ہے۔ متن میں کوئی لمبی تفصیل نہیں، صرف واقعہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار بیان ہوا ہے۔ اسی لیے اس حدیث کو سادہ طور پر یہی سمجھنا چاہیے کہ ایسے لوگوں کو نشانہ بنانے سے منع کیا گیا جن کا ذکر عورتوں اور بچوں کے طور پر آیا ہے۔ یہ روایت جذباتی بات نہیں بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل اور ردعمل کی خبر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • غزوہ میں مقتول عورت ملنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرمایا۔
  • عورتوں اور بچوں کے قتل کو حدیث میں ناپسند کیا گیا۔
  • جنگی حالات میں بھی حدود کا خیال رکھا گیا۔
  • متن مختصر ہے، اس لیے اسی بیان تک بات محدود رکھنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں